
اسرائیلی وزیر کا اعلان: غزہ کو صرف معمولی خوراک دی جائے گی، پورے علاقے کو ملبے میں بدل دیا جائے گا
ہم غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں، فوج ایک پتھر بھی اپنی جگہ پر نہیں چھوڑے گی"
غزہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹریچ نے پیر کے روز ایک متنازع بیان میں کہا ہے کہ غزہ کو صرف کم سے کم خوراک اور دوا فراہم کی جائے گی، اور وہ بھی اس شرط پر کہ "حماس کو اس میں سے کچھ نہ ملے”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں، فوج ایک پتھر بھی اپنی جگہ پر نہیں چھوڑے گی”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے شہریوں کو جنوبی حصے میں دھکیلا جائے گا اور وہاں سے انہیں تیسرے ممالک بھیج دیا جائے گا۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مکمل قحط کی نوبت نہیں آنے دے گا تاکہ جنگ کے مقاصد متاثر نہ ہوں۔ ان کے مطابق اگر بھوک بڑھی تو عالمی حمایت کم ہو جائے گی، جس سے اسرائیل کو سفارتی نقصان پہنچے گا۔ تاہم اسرائیلی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں صرف "ناگزیر ضرورت” کی مقدار میں خوراک داخل ہونے دی جائے گی، حالانکہ مارچ سے اب تک تمام انسانی امداد بند کی جا چکی ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں نے 12 مئی 2025ء کو جاری کردہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں شدید قحط کی لہر پھیلنے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی تا ستمبر 2025ء، 4 لاکھ 70 ہزار افراد قحط کے بدترین درجے (مرحلہ پنجم) کا سامنا کریں گے، جن میں 71 ہزار بچے اور 17 ہزار مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق امدادی سامان سرحد پر موجود ہے لیکن مارچ سے جاری پابندیوں کے باعث تقسیم ممکن نہیں، جبکہ لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔



