اسرائیل کا تین ماہ میں غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ، رفح ماڈل پورے علاقے میں نافذ کرنے کی تیاری
’’یہ اسپتال نہیں، ذبح خانہ ہے‘‘ – غزہ میں برطانوی ڈاکٹروں کی دہائی
تل ابیب / غزہ – ۲۳ مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے 70 سے 75 فیصد علاقے پر صرف تین ماہ میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ ترتیب دے دیا ہے۔ اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ "رفح ماڈل” پر مبنی ہے جس کے تحت غزہ کو مرحلہ وار تقسیم، تسخیر اور صفایا کرنے کی کارروائیاں کی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق، پانچ فوجی دستے اس مشن میں شامل ہوں گے، جن میں سے چار حملہ آور اور ایک دفاعی یونٹ ہوگا۔ یہ ماڈل رفح میں کیے گئے حالیہ آپریشن سے اخذ کیا گیا ہے جس میں انتہائی سخت کارروائی کے ذریعے علاقہ خالی کرایا گیا۔ اسرائیلی فوج کا ارادہ ہے کہ جہاں جہاں وہ پہنچے گی، وہاں رفح جیسا ماڈل نافذ کیا جائے گا۔
مذاکراتی عمل میں جمود
اس دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر میں جاری مذاکراتی عمل سے مایوس ہو کر اسرائیلی وفد کو واپس بلا لیا ہے۔ عبرانی ذرائع کے مطابق، حماس جنگ کے خاتمے کی امریکی ضمانت پر اصرار کر رہی ہے جسے اسرائیل قبول نہیں کر رہا۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات "بند گلی” میں داخل ہو چکے ہیں۔ البتہ اگر حماس "وٹکوف تجویز” مان لے — جس میں قیدیوں کی جزوی رہائی کے بدلے 40 دن کی جنگ بندی اور مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے — تو اسرائیل دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
غزہ میں انسانی بحران اور اقوام متحدہ کی تنبیہات
ادھر، غزہ میں انسانی بحران تیزی سے سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ وزارت صحت غزہ کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں تقریباً 90 فلسطینی شہید ہوئے۔ العربیہ کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری سے بیت لاہیا، حی السلاطین اور السودانیہ کے علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محاصرہ، شدید نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے سبب صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ خوراک کی شدید قلت کی وجہ سے کئی علاقوں میں بھوک کی لہر پھیل چکی ہے۔
محدود انسانی امداد کی اجازت
اسرائیلی دباؤ اور امریکا کی مداخلت کے بعد غزہ میں محدود انسانی امداد کی اجازت دی گئی ہے۔ اگرچہ امدادی مراکز تاحال فعال نہیں ہوئے، تاہم گزشتہ تین دنوں میں درجنوں ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز 100، منگل کو 93 اور پیر کے دن صرف 5 امدادی ٹرک داخل ہوئے۔ آئندہ دنوں میں مزید امداد کی توقع ہے۔
’’یہ اسپتال نہیں، ذبح خانہ ہے‘‘ – غزہ میں برطانوی ڈاکٹروں کی دہائی
غزہ۔ لندن، ۲۳؍مئی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):غزہ میں قیامت خیز مناظر دیکھنے والے برطانوی ڈاکٹروں نے اس علاقے کو ’’ذبح خانہ‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیرِ علاج مریض شدید غذائی قلت اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث موت سے لڑ رہے ہیں۔
خان یونس کے "المل” اور "النصر” اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے برطانیہ کے ماہر پلاسٹک اور آرتھوپیڈک سرجن، تباہ شدہ عمارتوں، زخمی بچوں اور لاچار والدین کے بیچ بے بسی کی تصویریں بنے کھڑے ہیں۔
ڈاکٹر ٹام پوٹوکر، جو جلنے کے زخموں کے ماہر ہیں اور اب تک 16 بار غزہ جا چکے ہیں، کہتے ہیں:
’’میں نے اپنے کیریئر میں کبھی ایسی تباہی نہیں دیکھی۔ اس بار صورتحال ناقابلِ تصور ہے۔ یہ ایک قتل گاہ ہے۔‘‘
ایک زخمی فلسطینی خاتون، جو اپنے شوہر اور بچوں کو اسرائیلی حملے میں کھو چکی تھی، کی سرجری کے بعد ڈاکٹر پوٹوکر کی آواز بھرا گئی۔ وہ عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے:
’’بس بہت ہو گیا، اب باتیں بند اور عمل شروع کریں۔‘‘
اسرائیلی حملوں نے اسپتالوں کو مقتل بنا دیا ہے۔
اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں بار بار اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یورپیئن اسپتال پر حملے کے بعد پوٹوکر کو مجبوراً "المل” اسپتال منتقل ہونا پڑا۔
مارچ سے انسانی امداد کی بندش نے رہی سہی کسر نکال دی۔ ڈاکٹر پوٹوکر نے کہا:
’’اب علاقے میں نہ طبی سامان آ رہا ہے، نہ خوراک۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ خان یونس اب سٹالن گراڈ جیسا لگتا ہے۔‘‘
بچوں کی آہیں، ماں کی سسکیاں، اور اسپتالوں میں ماتم
غزہ کے اسپتالوں کے ایمرجنسی کمروں میں جلی ہوئی، زخموں سے چور اور خوف سے سہمی ہوئی مائیں اپنے بچوں کو لے کر آتی ہیں، جہاں فوری علاج کے بعد انہیں برطانوی ڈاکٹروں کے پاس آپریشن کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
النصر اسپتال میں ایک بچہ سینے اور کمر کے جلے زخموں کے ساتھ آیا، جبکہ دوسرا بچہ بم کے چھروں سے زخمی تھا اور بینائی کھو چکا تھا۔
ڈاکٹر وکٹوریہ روز نے "برنز یونٹ” دکھایا جو اسرائیلی بمباری کے باعث بند ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
’’ہمارے عملے کے کئی افراد اسرائیلی انخلاء کے حکم کے باعث اسپتال نہیں آ سکے۔ میری بے ہوشی کی نرس اور ڈاکٹر گرایم کے ساتھی کو اپنے اہل خانہ کو محفوظ مقام پر لے جانا پڑا۔‘‘
ڈاکٹر گرایم گروم نے فلسطینی ساتھیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
’’یہ لوگ بالکل ہم جیسے ہیں۔ ان کے بھی گھر، بچے اور زندگیاں ہیں، لیکن ہر دن موت کے سائے میں اسپتال آتے ہیں۔‘‘
خطرہ بڑھ رہا ہے، امید دم توڑ رہی ہے
سرجنز کو شدید خدشہ ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں میں شدت کے باعث ہسپتالوں کو خالی کرنا پڑے گا، جس کا مطلب ہے ہزاروں زخمیوں کو بے سہارگی کے اندھیرے میں چھوڑ دینا۔



