بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور عارضی جنگ بندی کی نئی امریکی تجویز

نئی امریکی تجویز کیا ہے؟

واشنگٹن :(اردو دنیا۔اِن/ایجنسیز) اسرائیل اور حماس کے درمیان تعطل کا شکار قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کو نئی سمت دینے کے لیے امریکہ نے تازہ سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کے بعد ایک مجوزہ منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت غزہ میں جاری جنگ کو وقتی طور پر روکنے اور انسانی بحران میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔ تجویز کے مطابق، حماس کے قبضے میں موجود زندہ اسرائیلی قیدیوں میں سے نصف کو رہا کرنے کے بدلے میں اسرائیل غزہ پر بمباری روکنے اور کم از کم 40 دن کی عارضی جنگ بندی پر رضامند ہوگا، جس دوران انسانی امداد کو غزہ پہنچنے دیا جائے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں امریکی و اسرائیلی شہریت رکھنے والے فوجی عیدان الیگزینڈر کی رہائی کے بعد یہ ایک نادر موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر قیدیوں کے تبادلے کا ایک وسیع تر معاہدہ طے کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے دوران سیاسی مذاکرات کا بھی آغاز ہوگا تاکہ مستقل حل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ مشرق وسطیٰ دورے کے اختتام سے قبل کوئی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اس سے فریقین کے درمیان باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تاہم، اگر حماس نے اس امریکی تجویز کو مسترد کر دیا تو اسرائیلی فوج اپنی زمینی کارروائی میں "نمایاں وسعت” لا سکتی ہے، جیسا کہ اسرائیلی ذرائع نے واضح کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس وقت 57 اسرائیلی غزہ میں قید ہیں، جن میں سے 34 کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری کارروائیوں میں اب تک 52,862 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو اس انسانی بحران کی سنگینی کی عکاسی کرتا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button