ہمارے پاس حماس کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے: اسرائیل
غزہ پر قبضہ کریں گے اور پھر واپس نہیں جائیں گے : اسرائیلی وزیر خزانہ
تل ابیب، 6؍ اپریل: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنے فوجی آپریشن کو وسعت دینے کے لیے ریزرو فورسز کے دسیوں ہزار اہلکاروں کو طلب کرنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ سب کو بھرتی کرے گی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ادرائی نے کہا کہ فوج کے پاس حماس تحریک کو ختم کرنے کا ایک منظم فوجی منصوبہ ہے۔ اپنے ایکس اکانٹ پر انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل 7 محاذوں پر مسلسل جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس تحریک اب بھی معاہدے کو مسترد کر رہی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی چینل 12 نے پیر کے روز لیکس کے حوالے سے اطلاع دی کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس نے اس فیصلے کو سیکٹر میں لڑائی کو وسعت دینے کے لیے دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کے اعلان سے بھی جوڑا ہے۔ چینل 12 نے وزیر اعظم کے دفتر کے ایک ذرائع کے حوالے سے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ منصوبے میں غزہ کی پٹی پر مکمل قبضہ شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ "کابینہ” کی طرف سے منظور شدہ منصوبے میں غزہ کی پٹی پر قبضہ اور فلسطینیوں کو شمال سے جنوب کی طرف منتقل کرنا شامل ہے۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک اسرائیلی اہلکار نے بھی اعلان کیا کہ غزہ پر آپریشن کی توسیع سیکٹر پر مکمل کنٹرول تک پہنچ سکتی ہے۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیتن یاہو کی سربراہی میں سکیورٹی کابینہ نے حماس تحریک پر حملے کی بتدریج توسیع پر اتفاق کیا ہے۔
غزہ میں آپریشنز کی توسیع
واضح رہے کہ اسرائیل کی چھوٹی سکیورٹی کونسل نے اتوار کی شام غزہ میں آپریشنز کو وسعت دینے کے ایک منصوبے پر اتفاق کیا تھا جس میں پٹی پر کنٹرول کرنا بھی شامل ہے۔ منصوبے میں آبادی کی رضاکارانہ نقل مکانی کے خیال کو تقویت بخشی گئی ہے۔ اس کی تصدیق فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو ایک سیاسی اہلکار نے بھی کی ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اس منصوبے میں دیگر کئی چیزوں کے علاوہ غزہ کی پٹی پر قبضہ، زمین پر کنٹرول اور غزہ کے باشندوں کو ان کی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف منتقل کرنا شامل ہے۔ اس منصوبے میں حماس کے خلاف سخت حملے بھی شامل ہیں لیکن ان ممکنہ حملوں کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو غزہ کے باشندوں کی مصر اور اردن جیسے ہمسایہ ممالک میں رضاکارانہ نقل مکانی کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔
اسرائیل کا حماس کو الٹی میٹم, ٹرمپ کی آمد تک معاہدہ کریں ورنہ نئی کارروائی ہوگی
واشنگٹن۔تل ابیب، 6؍ اپریل: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ہفتے ہونے والے دور مشرق وسطی سے پہلے غزہ کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ ایک نئی اور وسیع فوجی کارروائی شروع کرے گا۔ اسرائیلی دفاعی امور کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کے روز کہا کہ ٹرمپ کی آمد کے موقع پر ایک "اہم موقع” موجود ہے جس سے غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے حوالے سے معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
تاہم اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو اسرائیل غزہ میں ایک نئی کارروائی کا آغاز کرے گا۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ میں بڑی فوجی کارروائی کی منظوری دیے جانے کے بعد مذکورہ عہدیدار نے واضح کیا کہ "اگر یرغمالیوں کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ہم ‘عربات جدعون’ نامی آپریشن پوری شدت سے شروع کریں گے اور یہ کارروائی اس وقت تک نہیں رکے گی جب تک اپنے تمام مقاصد حاصل نہ کر لیں”۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اتوار کی شب اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے جس میں غزہ میں کارروائی کو وسعت دینے، مکمل قبضے اور "رضاکارانہ ہجرت” کے تصور کو تقویت دینے کی بات کی گئی ہے۔ ایک اعلی سیاسی ذمہ دار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ منصوبہ کئی نکات پر مشتمل ہے، جن میں غزہ پر فوجی کنٹرول، جنوبی علاقے میں شہریوں کی منتقلی اور سخت حملے شامل ہیں۔
اس منصوبے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ بنجمن نیتن یاھو امریکی صدر ٹرمپ کی اس تجویز کو فروغ دے رہے ہیں جس میں غزہ کے باسیوں کی مصر یا اردن جیسے ہمسایہ ممالک کی طرف "رضاکارانہ ہجرت” کا ذکر ہے۔
دوسری جانب حماس نے 17 اپریل کو اسرائیلی تجویز مسترد کر دی تھی جس میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ حماس کا موقف تھا کہ وہ صرف اس شرط پر معاہدہ کرے گی جب مکمل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا انخلا اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا اصولی معاہدہ ہوگا۔
قابض اسرائیل اس کے برعکس صرف محدود جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور حماس و دیگر فلسطینی تنظیموں کو غیر مسلح کرنے پر زور دے رہا ہے۔ تاہم وہ جنگ مکمل طور پر روکنے یا فوجی انخلا کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ پر حملے دوبارہ شروع کر دیے تھے جب جنوری 2025 میں ہونے والی عارضی جنگ بندی ناکام ہو گئی تھی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حماس پر دباؤ برقرار رکھیں گے تاکہ باقی قیدیوں کو رہا کرایا جا سکے۔ اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق اس وقت بھی 58 افراد غزہ میں قید ہیں، جن میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ پر قبضہ کریں گے اور پھر واپس نہیں جائیں گے : اسرائیلی وزیر خزانہ
واشنگٹن۔تل ابیب، 6؍ اپریل: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ (چھوٹی سلامتی کونسل) کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کی منظوری کے بعد، وزیر خزانہ بتسلیل سموٹریچ نے ایک بڑا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم غزہ پر قبضہ کریں گے، اور بالآخر لفظ ‘قبضہ’ سے ڈرنا بند کریں گے”۔ یہ بات انھوں نے آج بروز پیر بیت المقدس میں ایک کانفرنس کے دوران کہی۔ سموٹریچ نے مزید کہا کہ کابینہ نے کل رات ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے، اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں، حتی کہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے میں بھی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ "قیدیوں کو آزاد کروانے کا واحد راستہ حماس کو شکست دینا ہے”۔ ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدے دار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فوج ان تمام علاقوں میں موجود رہے گی جن پر وہ غزہ میں قبضہ کرے گی۔
غزہ پر قبضہ اور حماس پر کاری ضربیں
گذشتہ شب اتوار کو اسرائیلی سلامتی کابینہ نے جو منصوبہ منظور کیا، اس میں غزہ پر قبضہ اور زمینی کنٹرول حاصل کرنا، حماس پر شدید حملے کرنا، غزہ کے شہریوں کو جنوبی علاقوں کی طرف منتقل کرنا (تاکہ انھیں "تحفظ” فراہم کیا جا سکے)، رضاکارانہ ہجرت کی امریکی تجویز کو فروغ دینا شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منصوبہ بندی میں بیان کیا گیا تھا کہ غزہ کے شہریوں کو مصر یا اردن جیسے ہمسایہ ممالک کی طرف منتقل کیا جائے۔
اسرائیلی ریزرو فوج طلب
آرمی چیف ایال زامیر کے مطابق، اسرائیلی فوج نے دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا ہے تاکہ جنگ میں توسیع کی جا سکے۔ کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ 18 مارچ سے جاری سخت محاصرے کے باوجود، غزہ میں محدود انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 17 اپریل کو حماس نے ایک اسرائیلی تجویز مسترد کر دی تھی، جس میں 45 روز کی جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی بات کی گئی تھی۔ حماس کا مطالبہ تھا کہ جنگ مکمل طور پر بند ہو، اسرائیلی فوج کا غزہ سے مکمل انخلا ہو، اس کے بعد تمام قیدی رہا کیے جائیں گے۔
دوسری جانب اسرائیل کا موقف تھا کہ تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے، حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں سے اسلحہ واپس لیا جائے تو پھر اس کے بدلے میں عارضی جنگ بندی تو ہو سکتی ہے، مگر مکمل جنگ کا خاتمہ یا انخلا نہیں ہو گا۔ اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق غزہ میں اب بھی 58 قیدی موجود ہیں اور ان میں سے 34 قیدی مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیل نے 18 مارچ 2025 کو جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ حملے شروع کیے تھے۔ اب اس کا موقف ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کی رہائی تک دباؤ برقرار رکھے گا۔



