بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی قیدیوں کا تبادلہ، 1968 فلسطینی رہا، 20 اسرائیلی یرغمالی حماس سے واپس

قیدیوں کی رہائی کا آغاز، بسیں غزہ اور راملہ کی جانب روانہ

غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے قیدیوں کے تبادلے کے تاریخی معاہدے کے تحت پیر کے روز 1968 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہو گیا۔ اس عمل میں شریک ایک اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ 38 میں سے پہلی بس آزاد شدہ فلسطینی قیدیوں کو لے کر غزہ کی طرف روانہ ہو چکی ہے، جبکہ کچھ دیگر بسیں راملہ پہنچ چکی ہیں۔

بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیب احمر کی نگرانی میں قیدیوں کو عوفر جیل اور النقب جیل سے سخت سیکیورٹی کے ساتھ منتقل کیا گیا۔ پیر کے روز صرف 83 فلسطینی قیدی عوفر جیل سے رہا کیے گئے، جب کہ بقیہ کو بتدریج غزہ اور دیگر علاقوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔

رہائی کے دوران عوفر جیل کے قریب العربیہ اور الحدث کے نمائندوں کو ہراس اور آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والی گیس کا سامنا کرنا پڑا تاکہ انھیں وہاں سے ہٹایا جا سکے۔ اسرائیلی حکام نے پہلے ہی جشن منانے کی کسی بھی سرگرمی سے خبردار کیا تھا۔

فلسطینی اسیران کے امور کے دفتر کے مطابق آج رہا کیے جانے والے تمام قیدی بسوں میں سوار ہو چکے ہیں، جو اب عوفر جیل سے بیتونیا (راملہ) اور النقب جیل سے غزہ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔یہ رہائی اس وقت عمل میں آئی جب صلیب احمر نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا کہ اس نے غزہ سے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو دو مرحلوں میں وصول کر لیا ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے پیر کے روز تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں کو حوالے کر دیا، جن کی تعداد 20 ہے۔ اسرائیلی ٹی وی "چینل 12” کے مطابق حماس کے قبضے میں اب کوئی زندہ قیدی باقی نہیں۔

حماس نے تصدیق کی کہ یہ اقدام امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے تحت کیا گیا۔ تنظیم نے ثالثوں سے کہا کہ وہ اسرائیل کو اس کے وعدوں پر عمل درآمد کا پابند بنائیں۔

جنوبی غزہ کے خان یونس شہر میں حماس نے دوسری کھیپ کے طور پر 13 مزید اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا، جنھیں صلیب احمر نے تحویل میں لے کر اسرائیل کے حوالے کیا۔ اس سے قبل پہلی کھیپ میں 7 اسرائیلی قیدی حوالے کیے گئے تھے۔العربیہ کے مطابق تمام اسرائیلی قیدی صحت مند حالت میں ہیں۔ صلیب احمر نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور انھیں غزہ و مغربی کنارے تک پہنچانے کا انتظام بھی کیا۔

ذرائع کے مطابق، 1968 فلسطینی قیدیوں میں سے 1716 کو غزہ کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پر رہا کیا جائے گا، جبکہ 250 قیدی جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، انھیں مغربی کنارے، بیت المقدس اور بیرونِ ملک منتقل کیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت اسرائیل 250 عمر قید یافتہ قیدی اور 1700 غزہ کے رہائشی قیدی رہا کرے گا۔ یہ تبادلہ اُن 251 افراد کے آخری گروپ سے متعلق ہے جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران اغوا ہوئے تھے۔

امریکہ، مصر، اور قطر کی ثالثی میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات 6 اکتوبر کو شرم الشیخ میں بحال ہوئے۔ بعد ازاں 9 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ فریقین پہلے مرحلے کے امن منصوبے پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے مرحلہ وار انخلا شامل ہے۔فوجی ذرائع کے مطابق 10 اکتوبر کو جنگ بندی کا معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ ان قیدیوں کی باقیات تلاش کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کیا جائے گا جن کی نعشیں موجودہ تبادلے میں واپس نہیں آئیں۔حکومت نے قیدیوں کے اہل خانہ سے کہا کہ وہ رعییم فوجی اڈے پر پہنچنے کی تیاری کریں۔ اس دوران فون پر ووٹنگ کے ذریعے فلسطینی قیدیوں کی فہرست میں معمولی تبدیلیاں کی گئیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button