اسرائیل حماس جنگ: کیا صدر ایردوان اسرائیل سے متعلق ’محتاط‘ ہیں؟
صدر ایردوان نے اسرائیل کو ’قابض‘ قرار دیا تھا
نیویارک، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی جنگ میں آنے والی شدت نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرلی ہے وہیں یہ تنازع ترکیہ اور اس کے صدر رجب طیب ایردوان کے لیے بھی ایک بڑا سفارتی چیلنج بنتا جارہا ہے۔مبصرین کے مطابق صدر ایردوان کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انہیں موجودہ صورتِ حال میں ایک طرف فلسطینیوں کے پُر زور حامی کے طور پر اپنا امیج برقرار رکھنا ہے۔لیکن اس کے ساتھ حالیہ برسوں کے دوران اپنی جارحانہ سفارت کاری کو اعتدال پر لانے کی کوششوں کو بھی جاری رکھنا ہے۔صدر ایردوان نے ترکیہ کے معاشی چیلنجز کے باعث 2021 میں امریکہ، روس اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔
جب کہ فلسطینیوں کی حمایت کے اپنے روایتی موقف کے باوجود انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا شروع کردیے تھے۔رواں برس ستمبر میں صدر ایردوان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی جس میں توانائی، ٹیکنالوجی، آرٹی فیشل انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا تھا۔اس سے قبل گزشتہ برس مارچ میں اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے ترکیہ کا دورہ کیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے دورے بھی ہوئے تھے اور دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت ہوئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین غزہ میں جنگ کی بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ ایردوان کی اسرائیل پر تنقید میں تیزی تو آتی دیکھ رہے ہیں لیکن ماضی کے مقابلے میں ان کے رویے کو محتاط قرار دے رہے ہیں۔صدر طیب ایردوان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ (اے کے) پارٹی نے گزشتہ ماہ 28 اکتوبر کو استنبول میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑی ریلی کا اہتمام کیا تھا۔اس عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اسرائیل کو ’قابض‘ قرار دیا تھا اور غزہ میں اس کے حملوں کو جنگی جرائم کے مترادف کہا تھا۔
جب کہ انہوں نے اسرائیل پر حملہ کرنے والی فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے بارے میں کہا تھا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔اس سے قبل 25 اکتوبر کو اے کے پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب میں انہوں نے حماس کے عسکریت پسندوں کو اپنی زمین کا دفاع کرنے والے ’مجاہدین‘ قرار دیا اور اسرائیل کے لیے مجوزہ دورہ بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیاتھا۔ ’الجزیرہ‘ کے مطابق اے کے پارٹی کی ریلی سے صدر ایردوان کی تقریر اب تک کی ان کی سب سے ’سخت تقریر تھی۔ جب کہ اے کے پارٹی کے ارکان سے ان کیخطاب کو بھی سخت ترین ردِ عمل کے طور پر دیکھا گیا تھا۔لیکن امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز (سی ایف آر) کے مطابق ترک صدر اسرائیل حماس جنگ پر اپنے موقف میں بتدریج تبدیلی لے کر آئے ہیں۔سی ایف آر کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کو جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو یہ صدر ایردوان کے لیے بھی دھچکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حملے کے فوری بعد اپنے اسرائیلی ہم منصب آئزک ہرزوگ سے رابطہ کیا تھا۔



