بین الاقوامی خبریں

طوفان الاقصیٰ اور اس کے بعد جوابی کاروائی میں اب دو ہزار سے زائدہلاک

غزہ پر اسرائیلی بمباری سےشہید ہونے والے 60 فیصد خواتین اور بچے ہیں

غزہ پر اسرائیلی بمباری سےشہید ہونے والے 60 فیصد خواتین اور بچے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس، 12اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے اسرائیل پر حیران کن حملے کے بعد جنگ پانچویں روز جاری رہی۔۔اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے جبکہ غزہ میں 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔گزشتہ ہفتے کے روز حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملوں کے بعد سے غزہ پر اسرائیل کی بمباری جاری ہے۔ اسرائیل نے غزہ کے پاس تین لاکھ فوجی تعینات کیے ہیں جبکہ حماس کے حملے بھی جاری ہیں۔ اس لڑائی میں اب تک 2100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل میں حکام نے 1200 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ فلسطین میں حکام کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی بمباری میں اب تک 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دونوں ہی جانب ہلاکتوں میں عام شہری، خواتین اور بچے شامل ہیں۔اب تک اس لڑائی میں دونوں جانب کے کئی ہزار لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز سے کم از کم 4,600 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔اس دوران اسرائیلی حکام نے اپنے جنوبی شہر اشک لون کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ غزہ سے مزید عسکریت پسندوں کی آمد کی اطلاعات کے بعد محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں جنگی طیاروں نے رات کے دوران غزہ میں الفرقان کے پڑوس میں 200 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حماس اپنے حملوں کا منصوبہ بناتی اور انجام دیتی رہی ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران علاقے میں یہ تیسری جوابی کارروائی ہے۔

اسرائیل کی درندگی میں اقوام متحدہ، ہلال احمر کے 16 رضاکار ہلاک

غزہ، 12اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دوران غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے 11 اور ہلال احمر کے 5 رضاکار ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم انتہائی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ 7 اکتوبر سے اب تک ادارے کے 11 رضاکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔عالمی ادارے نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ہلاک ہونے والے فلسطینی تھے یا غیرملکی، لیکن یہ بتایا کہ ان میں ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے اسکولوں کے 5 اساتذہ، ایک گائنی کالوجسٹ، ایک انجینئر، ایک سائیکالوجیکل کونسلر اور تین معاون شامل تھے۔ایجنسی نے کہا کہ متعدد رضاکاروں کو ان کے گھروں میں اہل خانہ کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ادارے نے جانی نقصان پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس (آئی ایف آر سی) اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے الگ الگ بیانات میں کہا کہ غزہ میں ان کے 4 اراکین اور اسرائیل میں ایک کی ہلاکت ہوئی ہے۔آئی ایف آر سی نے کہا کہ ہلال احمر فلسطین کے 4 پیرامیڈکس ایمبولنسز میں جارہے تھے کہ ان کو دو مختلف واقعات پیش آئے جن میں ان کی ہلاکت ہوگئی۔آئی ایف آر سی نے کہا کہ ہفتے کو اسرائیلی نیشنل ایمرجنسی سروس کی ایمبولنس کے ڈرائیور جب زخمیوں کو طبی امداد دینے جا رہے تھے تو ان کو حادثہ پیش آیا جس میں ان کی ہلاکت ہوگئی۔فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی نے کہا کہ غزہ میں ایک لاکھ 75 ہزار 500 بے گھر افراد کو ادارے کے 88 اسکولوں میں پناہ دی گئی ہے۔

ایجنسی نے کہا کہ اسرائیلی فضائی فورسز کے حملے جاری ہیں جس کی وجہ سے بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایجنسی نے کہا کہ اس کے رضاکار بے گھر افراد کی ضروریات پوری کرنے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ متعد مقامات پر لوگ حد سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے انہیں خوراک اور پانی کی دستیابی کی کمی ہے۔خیال رہے کہ پہلی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد وجود میں آنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں متعدد سروسز بشمول اسکول، بنیادی صحت اور انسانی امداد فراہم کرتی رہی ہے۔ایجنسی نے کہا کہ فضائی حملوں سے اس کے دو اسکول متأثر ہوئے ہیں جہاں تنازع کی وجہ سے متاثر ہونے والے اسکولوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے، تاہم غزہ میں اس کے تمام اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔

طوفان الاقصیٰ میں اسرائیل کو ابتدائی نقصان کا تخمینہ 6.8 بلین ڈالر

مقبوضہ بیت المقدس، 12اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے اسرائیل پر حیران کن حملہ کے دوران اسرائیل کو معاشی بحران پر بھی بڑا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ معاشی محاذ پر ایک تباہی منڈلا رہی ہے، ہمیشہ کی طرح غزہ کے ساتھ جنگ معمول کے مطابق معاشی نقصان کا باعث بنے گی۔ اسرائیل کی سیاحت کے شعبہ کی کارکردگی معطل ہو کر رہ جائے گی۔ جنوب میں اقتصادی سرگرمیاں مفلوج ہو جائیں گی۔ دفاعی اخراجات بڑھیں گے۔ ریزرو فوجی خصوصی ڈیوٹی کے لیے اپنی ملازمتوں سے غائب رہیں گے۔ اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے ایک رپورٹ میں جنگ کے باعث اسرائیل کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات کو محدود کرنے کے لیے اسرائیل میں ایک نئے قانون کی منظوری کے نتیجے میں تنازعات کے باعث اسرائیل کی معیشت 7 اکتوبر کی جنگ کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسرائیل موڈیز اور سٹینڈرڈ اینڈ پوور جیسی ایجنسیوں سے اپنی کریڈٹ ریٹنگ کے اجراء کا انتظار کر رہا تھا۔گزشتہ جولائی میںموڈیز نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات کو محدود کرنے والے نئے قانون کی منظوری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی تناؤ جاری رہے گا اور ممکنہ طور پر اس کے اسرائیل میں اقتصادی اور سلامتی کے حالات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس سیاسی تناؤ کے دوران ہی اسرائیل کی معیشت غزہ کے اچانک حملے سے حیران رہ گئی ہے۔اسرائیل کے سب سے بڑے بینک ہاپولیم بینک کے مارکیٹ سٹریٹجسٹ مودی شیفرر نے موجودہ بجٹ میں جنگ کے باعث نقصانات کا تخمینہ جی ڈی پی کے لگ بھگ 1.5 فیصد کی شرح سے لگایا ہے۔ یہ نقصان 6.8 بلین ڈالر بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے اسرائیل کی شرح نمو اس سال 1.5 فیصد رہے گی۔ اسرائیل کی کی معیشت کو یہ متوقع نقصان 1973 کی جنگ کے بعد سب سے زیادہ ہوگا۔یہ نقصان جولائی 2014 میں غزہ پر اسرائیلی آپریشن ’’پروٹیکٹو ایج‘‘ سے ہونے والے نقصان سے بھی زیادہ ہے۔اس وقت 3.5 بلین شیکل نقصان کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ یہ جی ڈی پی کا تقریا 0.3 فیصد تھا۔حالیہ جھڑپیں معیشت کے زخموں کو مزید گہرا کر دیں گی۔ اسرائیلی معیشت کی سرگرمیاں 2023 میں سست ہونے کی توقع تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button