جنین میں اسرائیل کا نیا فوجی آپریشن، نیتن یاہو کیا چاہتے ہیں؟
نیتن یاہو حکومت بھی آرمی چیف کے ساتھ مستعفی ہوجائے: اسرائیلی اپوزیشن لیڈر
رملہ ،22جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نےاعلان کیا ہے کہ اس نے مغربی کنارے کے شہر جنین اور اس کے پناہ گزین کیمپ میں ایک نیا آپریشن شروع کیا ہے۔خبرکے مطابق مغربی کنارے کے شمال میں واقع شہر کی سمت اسرائیلی فوجی کمک کی آمد دیکھی گئی۔فلسطینی وزارت صحت کے اعلان کے مطابق جنین پر اسرائیلی فوج کے دھاوے میں 6 فلسطینی جاں بحق اور 35 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا اور مغربی کنارے میں سیکورٹی کی صورت حال بہتر بنانا ہے۔نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایرانی محور کے خلاف منظم اور پر عزم طریقے سے حرکت میں آ رہے ہیں،وہ غزہ، لبنان، شام، یمن اور مغربی کنارے میں جہاں کہیں بھی اسلحہ بھیج رہا ہے۔
ادھر فسلطینی صدر کے مشیر محمود الہباش نے بتایا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کبھی نہیں رکی، اسرائیل یہاں نیا تنازع تخلیق دینے کے لیے کوشاں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی آباد کاروں پر سے پابندیاں اٹھانے سے انھیں مزید خلاف ورزیوں کے ارتکاب کا گرین سگنل مل گیا ہے۔اسرائیلی فوج کے آپریشن سے قبل فلسطینی سیکورٹی فورسز کئی ہفتوں سے جنین شہر کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کارروائی کر رہی تھی۔
چند روز پہلے فلسطینی اتھارٹی اور جنین بریگیڈ کے درمیان بحران ختم کرنے کے معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی اداروں نے اپنے اہل کار اور انجیئنرنگ ٹیمیں جنین کیمپ میں تعینات کر دی تھیں۔اس سے قبل فلسطینی صدر کے مشیر محمود الہباش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے جنین کیمپ میں فلسطینی سیکورٹی اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ الہباش کے مطابق اسرائیل فلسطین کے اندر انارکی اور عدم استحکام پھیلانا چاہتا ہے۔جنین کیمپ میں فلسطینی سکیورٹی اداروں کی سیکورٹی مہم کے دوران میں مسلح فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں میں ایک ماہ کے دوران میں 15 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مرنے والوں میں چھ سیکورٹی اہل کار، آٹھ شہری اور ایک مسلح شخص شامل ہے۔سات اکتوبر 2023 کو غزہ کی جنگ چھڑنے کے بعد مغربی کنارے میں بھی اسرائیل کی جارحیت اور پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔رام اللہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی جنگ چھڑنے کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حملوں اور اسرائیلی آباد کاروں کی فائرنگ سے کم از کم 838 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ اس عرصے میں فلسطینیوں کے حملوں میں 25 اسرائیلی مارے گئے۔
نیتن یاہو حکومت بھی آرمی چیف کے ساتھ مستعفی ہوجائے: اسرائیلی اپوزیشن لیڈر
مقبوضہ بیت المقدس،22جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے نیتن یاہو حکومت کے برقرار رہنے کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ یائر لیپڈ نے یہ مطالبہ اسرائیلی فوج کے سربراہ کے سامنے آنے والے ناکامی کے اعتراف ساتھ کیے گئے مستعفی ہونے کے قبل از وقت اعلان کے بعد کیا ہے۔واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے دوسرے روز آرمی چیف ہرزی ہیلوی نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوتے ہی مستعفی ہو جائیں گے۔کیونکہ فوج حماس کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے آرمی چیف کے اس اعلان کو بنیاد بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیتن یاہو بھی آرمی چیف کے ساتھ ہی استعفا دے کر گھر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت اگیا ہے کہ نیتن یاہو کی پوری حکومت حماس کے سلسلے میں اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے مستعفی ہو جائے۔ انہوں نے نیتن یاہو کی پوری حکومت کو اسرائیل کے لیے تباہ کن قرار دیا۔



