
غزہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل میں مختلف نظریات کی حامل حزب اختلاف کی جماعتوں نے نئی مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا۔ ایک معاہدے کے تحت دو رہنما نصف نصف معیاد کے لیے حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں حکومت سازی سے متعلق ایک طویل سیاسی تعطل کے دور ہونے کا راستہ بھی صاف ہو گیا ہے۔
اعتدال پسند جماعت ایتید یش کے رہنما یائر لپید اور سخت گیر یہود قوم پرست رہنما نیفتالی بینٹ نے مختلف نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں سے صلاح و مشورہ کرنے اور مخلوط حکومت تشکیل دینے پر متفق ہونے کے بعد اس معاہدے کا اعلان کیا۔اگر اس معاہدے پر عمل ہوتا ہے تو اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے طویل 12 سالہ دور اقتدا رکا خاتمہ ہو جائے گا اور ان کی دائیں بازو کی سخت گیر لیکود پارٹی اس مدت میں پہلی بار اپوزیشن میں ہو گی۔
یائر لیپید اس سلسلے میں سات سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور ان کے دستخط بھی حاصل کر لیے ہیں۔ حمایت حاصل کرنے کا مقررہ وقت نصف شب کو ختم ہو رہا تھا تاہم اس سے قبل ہی ان جماعتوں نے ایک مشترکہ مخلوط حکومت بنانے کے معاہدے پر رضامندی کا اعلان کر دیا۔یائر لیپید نے اس سلسلے میں اسرائیلی صدر ریوین ریولن کو بھی اپنی ایک پوسٹ کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے۔
Beit HaNasi spox:
In accordance with paragraph 13(b) of Basic Law: The Government (2001), Chairperson of Yesh Atid MK @yairlapid has informed President of Israel Reuven (Ruvi) Rivlin that he has been able to form a government.— Reuven Rivlin (@PresidentRuvi) June 2, 2021
اس میں کہا گیا ہے کہ مجھے آپ کو یہ اطلاع دینے کا اعزاز حاصل ہے کہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ اس بارے میں صدر سے ان کی بات بھی ہو گئی ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہاکہ یہ حکومت اسرائیل کے تمام شہریوں کے لیے کام کرے گی، ان کے لیے بھی جنہوں نے اس کے لیے ووٹ کیا اور ان کے لیے بھی جنہوں نے ووٹ نہیں دیا۔
یہ حکومت اسرائیل کو متحدہ کرنے کے لیے ہم ممکن کوشش کرے گی۔اس نئی مخلوط حکومت میں منصور عباس کی قیادت والی عرب فلسطینیوں کی جماعت، ‘یونائیٹیڈ عرب لسٹ’ سمیت متعدد سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ اسلام پسند عرب جماعت نے البتہ یہ مطالبہ بھی رکھا ہے کہ اس کے مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے پہلے ہی عربوں کی رہائش اور نیجیو کے اطراف میں بسنے والے بدوں کے دیہی علاقوں کو تسلیم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔
اس کا کہنا ہے کہ ان امور پر قانون سازی کے بعد ہی عرب پارٹی حکومت کی حمایت کرنا شروع کرے گی۔یروشلم میں ڈی ڈبلیو کی نامہ نگار تانیہ کرامیر کا کہنا ہے کہ اس مخلوط حکومت میں شامل متعدد سیاسی جماعتیں نظریاتی طور پر ایک دوسرے کی مخالف ہیں۔ ان کے مطابق بعض جماعتیں بہت ہی سخت نظریے کی حامل ہیں جو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو ضم کرنے کی حمایت کرتی رہی ہیں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کی بھی مخالف ہیں جبکہ بائیں بازو کی میرٹز نامی جماعت فلسطینی ریاست کی حامی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو مستحکم طریقے سے چلانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ جماعتیں اپنے سیاسی اختلاف دور کر کے ایک مشترکہ پروگرام تیار کریں ورنہ مضبوط حکمرانی بہت مشکل ہو گی۔حزب اختلاف کے رہنما یائر لیپید نے صدر کو اکثریت حاصل کرنے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور اگر اب مزید وقت طلب نہ کیا گیا تو غالب امکان اس بات کا ہے کہ نئی حکومت کو آئندہ ایک ہفتے کے اندر اسرائیلی پارلیمان کینسٹ میں اکثریت ثابت کرنا ہو گا۔



