
اسرائیل کا 7 اکتوبر حملے میں ملوث حملہ آوروں کو تلاش کرکے ہلاک کرنے کا حکم
گوتریس کی غزہ میں مستقل جنگ بندی کی اپیل، انسانی امداد کی فوری فراہمی پر زور
یروشلم/اقوام متحدہ، 6 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے میں ملوث باقی حملہ آوروں کو تلاش کرکے ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ فوج کو حملے میں شامل دیگر حملہ آوروں کا تعاقب کرکے انہیں ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی تعداد تقریباً 2 ہزار بتائی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو تقریباً 6 ہزار حملہ آوروں نے سرحد عبور کرکے اسرائیل میں داخل ہوکر حملہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے تقریباً 4 ہزار حملہ آور اب تک ہلاک کیے جاچکے ہیں، جبکہ باقی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور انہوں نے فوج کو دی ہے۔
اسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج کو حملے میں ملوث تمام افراد کا تعاقب کرنے اور انہیں ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے، خواہ ان کا کردار کتنا ہی بڑا یا چھوٹا کیوں نہ ہو۔
دوسری جانب یروشلم کے ماؤنٹ ہرتزل میں پیر کے روز منعقدہ ایک سرکاری یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ان افراد کا تعاقب جاری رکھے گا جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے میں حصہ لیا اور لوگوں کو یرغمال بنایا۔ انہوں نے غزہ میں حماس کی حکمرانی ختم کرنے کے اسرائیلی عزم کو بھی دہرایا۔
7 اکتوبر 2023 کے حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ غزہ کے صحت حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 74,200 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ میں تقریباً تین سال سے جاری فوجی کارروائیوں کے دوران حماس کی اعلیٰ قیادت کے کئی اہم ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں حماس کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار اور ان کے چھوٹے بھائی محمد سنوار بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی پروفیسر پر عرب شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام
اسی دوران اسرائیلی استغاثہ نے ایک یونیورسٹی پروفیسر کے خلاف عرب شہریوں اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی ہے۔ اسرائیلی اسٹیٹ اٹارنی کے دفتر کے مطابق ملزم پر سیکڑوں افراد کو نشانہ بنانے کے لیے مربوط حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔
عدالتی پابندی کے باعث ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ 60 سال سے زائد عمر کا یہ شخص تل ابیب کے قریب واقع بار ایلان یونیورسٹی میں ریاضی کا لیکچرر ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس نے گزشتہ تین برس کے دوران مبینہ طور پر قوم پرستانہ نظریات سے متاثر ہوکر یہ منصوبہ تیار کیا۔
حکام کے مطابق ملزم کو دو ہفتے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے اپنے منصوبے کو ایک مختصر نام دیا تھا اور اس کا مقصد اسرائیل کے عرب شہریوں کو بڑے پیمانے پر جبری طور پر بے دخل کرنا تھا۔
ملزم پر دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری، دھمکیوں کے ذریعے بھتہ خوری اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ نے عدالت سے مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک اسے حراست میں رکھنے کی درخواست کی ہے۔
بار ایلان یونیورسٹی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ لیکچرر کو فوری طور پر معطل کردیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کا غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی تیسری برسی کے موقع پر غزہ میں جاری جنگ بندی کو مستقل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مزید خونریزی کے بجائے پائیدار امن کی جانب بڑھنے کا وقت آگیا ہے۔
اپنے پیغام میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ 7 اکتوبر کے حملوں میں پیش آنے والی ہولناک صورتحال دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہیے، جبکہ اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی تباہ کن جنگ کا بھی خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق مسلسل لڑائی نے فلسطینی شہریوں کو شدید انسانی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں شہری اپنی جانوں سے محروم ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری اب بھی انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے مصائب کا خاتمہ فوری طور پر ہونا چاہیے۔
گوتریس کے مطابق گزشتہ سال ہونے والی جنگ بندی سے متاثرہ آبادی کو کچھ حد تک راحت ضرور ملی، تاہم غزہ کے لوگوں کو اب بھی مکمل تحفظ، مناسب انسانی امداد اور حالات میں مستقل بہتری کے لیے ایک قابل اعتماد راستہ دستیاب نہیں ہوسکا۔
انہوں نے تمام فریقین سے جنگ بندی کے تحت کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل کرنے اور معاہدے کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھنے کی اپیل کی۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب جنگ بندی کو مستقل کرنے، بڑے پیمانے پر انسانی امداد غزہ تک پہنچانے اور بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خطے میں دیرپا امن کے لیے سیاسی حل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے ایسے مستقبل کے قیام کے لیے پرعزم ہے جہاں دونوں فریق امن، سلامتی، حقوق اور وقار کے ساتھ ایک دوسرے کے پڑوسی بن کر رہ سکیں۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے زیر قیادت مسلح افراد نے غزہ سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی، بے گھر اور بنیادی سہولیات سے محروم ہوئے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ 7 اکتوبر کی برسی صرف گزشتہ برسوں کے دکھ اور تباہی کو یاد کرنے کا موقع نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ایک ایسے مستقبل کے لیے عزم مضبوط کرنے کا موقع بننا چاہیے جس میں اسرائیلی اور فلسطینی امن و سلامتی کے ساتھ اپنے حقوق اور وقار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔



