بین الاقوامی خبریں

اسرائیل کا حماس پرغزہ میں اے پی کے زیراستعمال عمارت میں سگنل جام کرنے کاالزام

غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل نے حماس پرغزہ میں امریکا کی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ(اے پی) کے زیرِانتظام کثیرمنزلہ عمارت میں سگنل جام کرنے کا نظام بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔اسرائیلی فوج نیاس عمارت کو فضائی حملے میں تباہ کردیا تھا لیکن اب اے پی کو اس کی تعمیرنومیں مدد کی پیش کش کی ہے۔

امریکا میں متعین اسرائیلی سفیرگیلادایردان نے نیویارک میں اے پی کے سربراہ گیری پروئٹ سے ملاقات کی ہے اور غزہ میں جالاٹاور کو نشانہ بنانے کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’یونٹ میں جام کرنے والا ایک الیکٹرانک سسٹم بنایا جارہا تھا،اس کو آئرن ڈوم دفاعی نظام کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔‘‘وہ اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کا حوالہ دے رہا تھا،اس کے ذریعے حماس اور دوسری فلسطینی تنظیموں کے راکٹ حملوں کو ناکارہ بنایاجاتا رہا تھا۔

انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ وہ یہ تصورنہیں کرتے کہ اے پی کا عملہ حماس کی اس عمارت میں مبینہ سرگرمی سے آگاہ تھا۔صہیونی سفیر نے حماس پر دہشت گردتنظیم ہونے کا الزام عاید کیااور کہا کہ اس کو پریس کا کوئی پاس نہیں۔اس نے جان بوجھ کر دہشت گردمشین کو شہری علاقوں میں نصب کیا تھا اور ان دفاترکو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

جہاں بین الاقوامی میڈیا اداروں کے دفاتر تھے۔ایردان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اے پی کو دفتر کی تعمیرنومیں مدد دینے کو تیار ہے۔ قبل ازیں اے پی اورمیڈیا حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں نے جالاٹاور کے حماس کے زیراستعمال ہونے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔اس فضائی حملے میں قطر کے ملکیتی الجزیرہ ٹیلی ویڑن نیٹ ورک کے دفاتر بھی تباہ ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ جالا ٹاورکے مالک نے اسرائیلی فوج کے افسر سے مزید دس منٹ دینے کی اپیل کی تھی تاکہ میڈیا اداروں کا عملہ اپنا سامان نکال سکے ،

لیکن اسرائیلی افسر نے ان کی ایک نہیں سنی تھی اور صہیونی فوج نے ان کی فون کال کے دوران ہی میں اس ٹاورکومیزائل حملے میں نشانہ بنادیا تھا جس سے وہ دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس ہوگیا تھا۔اسرائیل کے 10مئی سے 21مئی تک غزہ کی پٹی پرتباہ کن حملوں میں 260 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ان میں 66 کم سن بچے اور حماس کے کم سے کم 90 جنگجو بھی شامل تھے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button