شجاعیہ کالونی پر کنٹرول حاصل کرلیا، اسرائیل، 19 صہیونی فوجی ہلاک کئے: حماس
اسرائیلی کی صہیونی افواج کے نہتے فلسطینیوں کو بے دریغ مارنے کی رپورٹیں
مقبوضہ بیت المقدس،22دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کے علاقے شجاعیہ کالونی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس علاقے میں ہونے والی لڑائی کو جاری جنگ میں اب تک کی سب سے خوفناک لڑائی قرار دیا گیا ہے۔فوج نے ایک بیان میں مزید کہا کہ 36ویں ڈویژن نے شجاعیہ میں حماس کی بنیادی صلاحیتوں کو ختم کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ فورسز حماس کے باقی ماندہ ڈھانچے کو تباہ کرنے اور ابھی تک چھپے ہوئے کسی بھی کارکن کو مارنے کے لیے پڑوس میں محدود کارروائیاں جاری رکھیں گی۔اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا کہ شجاعیہ میں ہونے والی لڑائی میں حماس کے بہت سے کارکنوں کو مار دیا گیا ہے۔ شجاعیہ میں حماس کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آکر 9 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ چھاتہ بردار بٹالین نے شجاعیہ میں حماس کے زیر استعمال 100 سے زائد عمارتوں کو مسمار کر دیا۔ درجنوں سرنگوں کے سوراخ بھی ملے ہیں۔ اس دوران حماس کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں حماس کا ایک کمانڈر اور سات اکتوبر کے حملے میں حصہ لینے والے افراد بھی شامل ہیں۔دوسری جانب تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں لڑائی میں 19 اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔ بریگیڈز نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے ایک گھر پر حملہ کیا جس میں متعدد اسرائیلی فوجی چھپے ہوئے تھے۔
ان میں سے 6 ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوئے۔ انھوں نے غزہ شہر کے شمال میں التوأم کے علاقے میں اسرائیلی ا سپیشل فورس کو سٹروب چارجز کے ساتھ نشانہ بنایا۔ گیارہ فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا، اسرائیلی سپورٹ فورس میں ایک اینٹی پرسنل ڈیوائس کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس گروپ میں 8 فوجی شامل تھے۔ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا کہ غزہ شہر میں دو اسرائیلی فوجیوں کو سنائپرز نے بھی ہلاک کر دیا ہے۔ٹیلیگرام کے توسط سے القسام کے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کے جنگجوؤں نے مختلف جنگی محاذوں پر 7 اسرائیلی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ یاد رہے حماس نے اپنی صفوں میں ہلاکتوں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حماس کے کم از کم سات ہزار کارکنوں کو مار دیا ہے۔ حماس نے اس تعداد کو مسترد کردیا ہے۔متوازی طور پر اسرائیلی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس کے 40 فوجی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی لڑائیوں میں زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے۔اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل کے 1929 فوجی زخمی ہوچکے ہیں۔ غزہ میں زمینی آپریشن کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی کل اعلان کردہ تعداد 137 ہو گئی ہے۔غزہ کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ سات اکتوبر سے شروع جنگ میں تقریباً 20,000 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور ممکنہ طور پر ہزاروں لاشیں ملبے کے نیچے بھی دبی ہوئی ہیں۔
اسرائیلی کی صہیونی افواج کے نہتے فلسطینیوں کو بے دریغ مارنے کی رپورٹیں
نیویارک،22دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے اسرائیلی فوجیوں کے غزہ میں کم از کم 11 نہتے فلسطینیوں کو ’بے دریغ‘ ہلاک کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں دفتر نے کہا کہ مبینہ طور پر یہ ہلاکتیں رواں ہفتے غزہ شہر کے رمل محلے میں ہوئیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے تشویشناک معلومات موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (اسرائیلی فوج) نے کم از کم 11 نہتے فلسطینیوں کو بے دریغ ہلاک کیا ہے۔
بیان کے مطابق ’یہ واقعہ ممکنہ جنگی جرم کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان نہتے مردوں کو ان کے خاندان کے افراد کے سامنے مارا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں نے خواتین اور بچوں کو ایک کمرے میں جانے کا بھی حکم دیا اور یا تو ان پر گولی چلائی یا کمرے میں دستی بم پھینکا جس سے مبینہ طور پر کچھ شدید زخمی ہوئے جن میں ایک شیرخوار اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔بیان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں پر پہلے بھی شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔اسرائیل نے جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس سے مزید انخلا کا حکم دیا ہے، جبکہ سفارت کاروں نے جنگ کو روکنے کے لیے کوششوں پر زور دیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ جنگ میں 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مرنے والوں میں آٹھ ہزار بچے جبکہ چھ ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے بدھ کو خان یونس سے انخلا کے احکامات جاری کیے تھے جہاں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔اسرائیل نے تنازع کے آغاز میں شہریوں سے کہا کہ وہ غزہ کے شمال سے نکل جائیں اور جنوب کی طرف جائیں۔ لیکن لوگوں کے لیے پناہ حاصل کرنے کی جگہیں کم ہوتی جارہی ہیں، اور ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بین الاقوامی غم و غصہ بڑھ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریف تھس نے اسے ایک ’افسوسناک اور شرمناک‘ قرار دیا۔حماس حکومت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی میں اب تک کم از کم 20,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے یا خواتین شامل ہیں۔



