بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل کی ہٹ دھرمی : یرغمالیوں کے رہا کئے جانے تک غزہ کا ’محاصرہ ‘جاری رہے گا

صیہونی توپیں ہر 30 سیکنڈ میں غزہ کے معصوم عوام پر آگ برساتی ہیں

مقبوضہ بیت ا لمقدس، 13اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے محاصرے کے خاتمے کو حماس کی جانب سے اپنے یرغمال بنائے گئے فوجیوں اور شہریوں کی رہائی سے منسلک کر دیا ہے۔اسرائیل نے جمعرات کو کہا کہ ’غزہ کی پٹی کے محاصرے میں امداد کی فراہمی یا انخلا کے لیے اس وقت تک کوئی وقفہ نہیں دیا جائے گا جب تک کہ اس کے تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کردیا جاتا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکہ نے بھی اسرائیلی شہریوں کی حفاظت پر زور دیا ہے جبکہ ریڈکراس نے علاقے میں ممکنہ انسانی المیے سے خبردار کیا ہے۔ادھر غزہ میں حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کی بمباری سے اب تک 1400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 6 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔اسرائیل نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تاریخ میں اپنے شہریوں پر ہونے والے بدترین ترین حملوں کا بدلہ لے گا اور غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والی حماس تحریک کو ختم کردے گا۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی کا کہنا ہے کہ ہم غزہ کے اردگرد سکیورٹی کی ناکامی سے سبق حاصل کریں گے جس کی وجہ سے یہ حملے ممکن ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی افواج ملک اور اپنے شہریوں کے دفاع کی ذمہ دار ہے، تاہم سنیچر کی صبح غزہ کے گردونواح میں ہم یہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکے۔‘لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کوتاہی سے سیکھیں گے، تحقیقات کریں گے، لیکن اب جنگ کا وقت ہے۔دوسری جانب فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو مار دیا جائے گا۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے اسرائیل کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تل ابیب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے امریکی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ساتھ جو پیغام لایا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ خود اپنے دفاع کے لیے کافی مضبوط ہوسکتے ہیں، لیکن جب تک امریکہ موجود ہے آپ کو کبھی اپنا دفاع نہیں کرنا پڑے گا۔اینٹونی بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ہمیشہ اسرائیل کے شانہ بشانہ رہے گا اور سکیورٹی مدد فراہم کرے گا،تاہم انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے۔اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کا دورہ اسرائیل امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی غیر مبہم حمایت کی ٹھوس مثال ہے۔انہوں نے فلسطین کے عسکریت پسند گروپ‘حماس‘ کا موازنہ ’داعش‘ سے کیا اور کہا کہ ’جس طرح داعش کو کچل دیا گیا تھا اسی طرح حماس کو کُچل دیا جائے گا۔

صیہونی توپیں ہر 30 سیکنڈ میں غزہ کے معصوم عوام پر آگ برساتی ہیں

مقبوضہ بیت المقدس، 13اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)گھڑی کے طرح کام کرتے ہوئے صیہونی توپیں ہر 30 سیکنڈ بعد حماس کے زیرکنٹرول غزہ کی پٹی میں مشکل سے نظر آنے والے ہدف پر گولہ باری کرتی ہیں۔حماس کے عسکریت پسندوں کے گزشتہ ہفتے سرحد کے اس پار سے گھس کر بارہ سو، اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے کے جواب میں تل ابیب نے عسکر یت پسند تنظیم کو کچلنے کا زعم پال لیا ہے ۔حماس کی جانب سے یہ اسرائیل کے قیام کے بعد 75 برسوں میں مہلک ترین حملہ تھا۔حماس کے حیران کن حملے کے بعدسے اسرائیل نے گنجان آباد غزہ کی پٹی کو گولہ باری اور فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل غزہ پر زمینی حملے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔اسرائیلی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے ہفتے سے حماس کے اہداف پر حملہ شروع کرنے کے بعد سے اب تک غزہ پر تقریباً 6000 گولہ بارود کے ساتھ بمباری کی ہے جس میں 4 ہزار ٹن دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔فوج نے غزہ کے ساتھ سر حد پر 150 ایم ایم توپیں ایک دوسرے سے کچھ گز کے فاصلے پر نصب کی ہیں۔ یہ توپیں نیٹیووٹ اورسدیروت کے قصبوں کے قریب تعینات کی گئی ہیں جنہیں حماس کے حملوں میں راکٹوں کا ہدف بنایا گیا تھا،جب بھی کان پھاڑ دینے والی گولہ باری ہوتی ہے زمین ہل جاتی ہے ۔


غزہ میں بجلی کے بغیر اسپتال مردہ خانے میں تبدیل ہونے کا خدشہ : ریڈ کراس

غزہ، 13اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بین الاقوامی امدادی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ اسرائیل نے اس چھوٹے سے محصور علاقے میں خوراک، پانی، ایندھن اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی ہے اور مصر کے ساتھ اس کی گزرگاہ ناقابل استعمال ہے۔ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی یا آئی سی آر سی کے ایک سینئر اہل کار نے خبردار کیا کہ بجلی کی کمی اسپتالوں کو مفلوج کرکے رکھ دے گی۔آئی سی آر سی کے علاقائی ڈائریکٹر فابریزیو کاربنی کا کہنا ہے کہ غزہ میں بجلی ختم ہو نے کے نتیجے میں اسپتالوں میں بجلی منقطع ہو جاتی ہیاور انکیوبیٹرز میں نوزائیدہ بچے اور آکسیجن پر ڈالے گئے معمر مریضوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ گردے کا ڈائیلاسز رک جاتا ہیاور ایکس رے نہیں لیے جا سکتے۔ بجلی کے بغیر خطرہ ہے کہ اسپتال مردہ خانے میں تبدیل ہو جائیں گے۔حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر ایک خونریز بڑیحملے کے بعد ایک ایسی جنگ شروع ہو چکی ہے جس میں اب تک دونوں جانب کے 2600 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

غزہ میں جمعرات کے روز فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد بیکریوں اور گروسری اسٹوروں کے باہر قطاروں میں کھڑی نظر آئی۔بجلی کی مکمل بندش کی وجہ سے وہ علاقوں میں رات گزارنے پر مجبور تھے جو اب کھنڈرات بن چکے ہیں۔دوسری جانب اسرائیل نے نئے فضائی حملے شروع کر دیئے ہیں اوراس کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہیچٹ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ افواج زمینی کارروائی کی تیاری کر رہی ہیں۔ غزہ میں 23 لاکھ افراد صرف 40 کلومیٹر (25 میل) کے رقبے میں آباد ہیں اور ممکنہ طور پر گھر گھر ہونے والی وحشیانہ لڑائی میں دونوں جانب بڑے جانی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔اسرائیل کی غزہ پر فضائی گولہ باری جاری رہی ہے جب کہ حماس کے جنگجو ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے کے بعد سے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ داغ چکے ہیں۔

عسکریت پسندوں نے ایک اندازے کے مطابق 150 افراد کو اس علاقے میں یرغمال بنا رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں میں ہزاروں افراد کا ہجوم ہے جب کہ متعدد افراد اپنے رشتہ داروں یا پھر اجنبیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔اقوام متحدہ نے بدھ کو دیر گئے بتایا کہ فضائی حملوں سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد 24 گھنٹوں کے اندر 30 فیصد بڑھ کر 339000 ہو گئی ہے۔


اسرائیل کی جنگ اسرائیل سے باہر منتقل کرنے کی کوشش، شام میں بمباری

دمشق، 13اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق اور شمالی شہر حلب کے ہوائی اڈوں پر بمباری کر کے دونوں کے رن ویز کو نقصان پہنچایا ہے۔جس سے دونوں ہوائی اڈوں سے فضائی سروس معطل کر دی گئی ہے۔شامی فوجی ذرائع نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ میزائل حملے سے اسرائیل نے دو ائیر پورٹس کو نشانہ بنایا۔ یہ دونوں حملے ایک ہی وقت میں کیے گئے۔شامی فوج کے ذرائع نے اسرائیل کے ان حملوں کو اسرائیل کی طرف سے ایک چال قرار دیتے ہوئے کہا اس چال کے ذریعے اسرائیل دنیا کی توجہ اپنے اندر حماس کے حملوں سے پیدا صورت حال سے ہٹانا چاہتا ہے۔شام اور اس کے ہوائی اڈوں پر اسرائیلی حملے نئی بات نہیں ہیں۔ تاہم اب جبکہ اسرائیل کو اپنے ہاں حماس کے راکٹ حملوں نے سخت مشکل میں ڈال رکھا ہے اور اس کے درجنوں فوجیوں سمیت کئی شہری غزہ میں مغوی بن کر قید ہیں تو اسرائیل کا شام پر حملہ اہم بات ہے۔ کیونکہ پہلے ہی خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا دائرہ پھیل سکتا ہے۔

اسرائیل ماضی میں شام پر حملے کر کے شام میں ایران سے متعلق اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کرتا ہے۔ اب بھی ذرائع کا یہی کہنا ہے کہ دمشق اور حلب میں یہ اسرائیلی حملے شام میں ایرانی سپلائی لائن روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں میں ایرانی اثر رسوخ شام کے صدر بشارالاسد کو مدد دینے کے کام آتا ہے۔ یہ سلسلہ شام کی 2011 سے شروع ہونے والی جنگ کے دنوں سے جاری ہے۔اسرائیل کے شام پر تازہ حملے عین اس روز ہوئے جب امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن تل ابیب کے میں موجود تھے اور ایرانی وزیر خارجہ ایک روز بعد شام کے دورے پر پہنچنے والے ہیں۔ ادھر ایران نے اسرائیل پر حماس کے کامیاب حملوں پر خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن ان حملوں کاحصہ ہونے سے انکار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button