بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل نے امریکی ہتھیاروں کے استعمال میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی : رپورٹ

اسرائیل کی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں شہری نقصانات کو کم سے کم رکھنے کے لیے کہا گیا

واشنگٹن، ۱۱؍مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے، غزہ میں امریکہ کے فراہم کردہ ہتھیاروں کے استعمال میں ممکنہ طور پر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے، لیکن فلسطینی علاقوں میں جنگ کے حالات کے باعث امریکی حکام مخصوص فضائی حملوں میں اس بات کا تعین نہیں کر سکے۔غزہ جنگ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے معقول شواہد کی تلاش سے متعلق جائزہ، جمعے کو کانگریس میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے خلاصے میں جاری کیا گیا ہے، جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اس نوعیت کی سخت ترین رپورٹ ہے۔

اگرچہ امریکہ، غزہ جنگ میں اسرائیلی فورسز کے حملوں میں مخصوص امریکی ہتھیاروں کے استعمال کو انفرادی حملوں سے فوری طور پر منسلک نہیں کر پایا، لیکن انتظامیہ کے لیے مستقبل میں اسرائیل کو مخصوص ہتھیاروں کی فراہمی روکنے سے متعلق فیصلے کرنے کی راہ آسان ہو گئی ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا جائزہ ہے جس کے لیے کانگریس میں صدر بائیڈن کے ساتھی ڈیموکریٹس نے زور دیا تھا۔ یہ جائزہ سات ماہ کے فضائی حملوں، زمینی لڑائیوں اور فلسطینی علاقے میں امداد کی فراہمی پر پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔اس لڑائی میں اب تک 35 ہزار کے لگ بھگ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔اسرائیل۔ حماس جنگ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر دہشت گرد حملے کے بعد شروع ہوئی جس میں 1200 اسرائیلی مارے گئے تھے اور 250 یرغمال بنا لیے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکی حکام مخصوص حملوں سے متعلق درکار تمام معلومات اکھٹی کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن امریکی ہتھیاروں پر اسرائیل کے انحصار کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز جن ہتھیاروں کو 7 اکتوبر سے استعمال کر رہی ہیں، ان کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں شہری نقصانات کو کم سے کم رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اسرائیلی فوج کے پاس تجربہ، ٹیکنالوجی اور معلومات ہیں کہ عام شہری نقصانات کو کیسے محدود ترین سطح پر رکھا جا سکتا ہے، لیکن شہری ہلاکتوں کی وسیع تر سطح کئی سوالات کو جنم دیتی ہے جن کا تعلق ہتھیاروں کے مؤثر استعمال سے ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تمام امریکی اور بین الاقوامی قوانین پر عمل کر رہا ہے۔ اور وہ اپنی سکیورٹی فورسز کی طرف سے بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں اس کی مہم حماس کی جانب سے اسرائیلی ریاست کے وجود کو لاحق خطرے کے خلاف ہے۔

صدر بائیڈن کو، فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور غزہ پر قحط کے منڈلاتے ہوئے خطرات کے باوجود وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے محتاط حمایت جاری رکھنے پر ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔تاہم بائیڈن کی سخت مخالفت کے باوجود پناہ گزینوں سے بھرے ہوئے غزہ کے شہر رفح پر اسرائیلی فوج کے حملے سے حالیہ ہفتوں میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ نیتن یاہو کی کشیدگی مزید بڑھی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button