اسرائیل غزہ کی پٹی کیلئے اپنی ذمہ داری سے الگ ہو جائے گا: وزیر دفاع گیلینٹ
غزہ کی پٹی میں اس کی فوجی مہم کا ایک مقصد اسرائیل پر سے محصور فلسطینی ساحلی شہر کی ذمہ داری ختم کرنا
مقوضہ بیت المقدس،21اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی وزیر دفاع یو و گیلینٹ نے کل جمعے کو کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کی فوجی مہم کا ایک مقصد اسرائیل پر سے محصور فلسطینی ساحلی شہر کی ذمہ داری ختم کرنا ہے۔غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطے کا زیادہ تر انحصار اسرائیل پر ہے کیونکہ فلسطینی علاقے کی زمین اور سمندری سرحدوں کا 90 فی صد حصہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔سن 2007 میں غزہ کی پٹی کا کنڑول عسکریت پسند گروپ حماس کے پاس آنے کے بعد سے اسرائیل نیاس علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور غزہ کی درآمدات اور برآمدکے ساتھ ساتھ وہاں آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔غزہ کی سرحد کا کچھ حصہ مصر سے ملحق ہے جہاں رفح نامی سرحدی گزر گاہ ہے۔ بیرونی دنیا سے براہ راست رابطے کا یہ واحد سرحدی راستہ ہے جو حماس کے کنٹرول میں ہے۔تاہم مصر زمینی حالات اور خطے کی صورت حال کے پیش نظر حماس کو اپنے استحکام کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہوئے اسرائیلی ناکہ بندی کی عمومی طور پر حمایت کرتا ہے۔
7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کا اثر رفح کراسنگ پر بھی پڑا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے رفح کراسنگ کے راستے جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں تک محدود پیمانے پر انسانی ہمدردی کی امداد پہچانا چاہتے ہیں لیکن وہ بمباری سیراستوں کی ٹوٹ پھوٹ اور اسرائیل کی رضامندی کے حصول کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کی خارجہ اور دفاع کے امور کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سات اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں پر حماس کے مہلک حملے کے بعد غزہ پر لانچ کی گئی مہم تین مراحل میں مکمل کی جائے گی۔گیلینٹ نے بتایا کہ پہلا مرحلہ موجودہ فوجی کارروائی کا ہے جس کا مقصد حماس کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنا تھا۔ دوسرے مرحلے میں کم تر شدت کی کارروائیاں کی جائیں گی جس میں ان ٹھکانوں کا خاتمہ کیا جائے گا جہاں سے مزاحمت کی جاتی ہے۔



