بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج صحافیوں کو ٹارگٹ بنا کر ہلاک کرتی ہے: تحقیقاتی رپورٹ

فوج کی کارروائیوں میں مارے گئے

لندن،26جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے میڈیا ہاؤسز کی مشترکہ کاوشوں سے کی گئی تحقیقات کے ذریعے اس امر پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ غزہ جنگ کے دوران اب تک ایک سو سے زائد فلسطینی صحافیوں کو کن حالات میں ہلاک کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ان صحافیوں کو اس کے باوجود نشانہ بنایا گیا کہ وہ صحافتی شناخت ظاہر کرنے والی جیکٹیں زیب تن کیے ہوئے تھے۔فلسطینی صحافیوں کی سات اکتوبر سے اب تک غزہ جنگ میں ہونے والی اس بہت بڑی تعداد میں ہونے والی ان ہلاکتوں کے بارے میں جان کاری کی کوشش میں 13 مختلف اداروں کی 50 صحافیوں سے متعلق کہانیوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ان اداروں میں ‘ اے ایف پی’، ‘گارجین’ اور عرب رپورٹرز کے فورم ‘ عرب رپورٹرز فار انویسٹیگیٹو جرنلزم گروپ شامل تھے۔ ان اداروں نے چار ماہ تک تحقیقاتی عمل جاری رکھا۔

جبکہ اکتوبر سے اب تک پیش آنے والے واقعات غزہ کی پٹی پرتحقیقات کا موضوع تھے۔ فاربیڈن سٹوریزکے لارینٹ رچرڈ نے اس غزہ پروجیکٹ کی اشاعت کے ساتھ ایک اداریئے میں کہا ہے 100 سے زائد صحافی ہلاک کر دیئے گئے۔لارینٹ رچرڈ لکھتے ہیں کہ غزہ کے صحافی طویل عرصے سے جانتے ہیں ان کے جسموں پر موجود صحافتی شناخت ظاہر کرنے والی جیکٹیں یا واسکیٹ ان کی جان بچانے کے لیے کام کی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ تو انہیں مارنے والوں کے سامنے زیادہ ایکسپوزکرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کبھی بھی جانتے بوجھتے صحافیوں کو نقصان پہنچایا ہے نہ پر ان پر فضائی یا زمینی حملے کیے ہیں۔ الٹا اسرائیلی فوج نے یہ الزام لگا دیا ہے کہ الس تحقیقاتی رپورٹ میں دراصل عسکریت پسندوں کے واقعات کو جمع کر دیا گیا ہے جو فوج کی کارروائیوں میں مارے گئے۔لیکن انہیں صحافی بنا کر پیش کر دیا گیا۔بلاشبہ صحافیوں کے اتنے اہم فورمز کی اس رپورٹ کو اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ اسرائیل ہی چیلنج کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button