غزہ پر زمینی حملے کی صورت میں صہیونی فوج کو تربیت یافتہ جنگجوؤں کا سامنا ہو گا: ماہرین
اسرائیل اور حماس کے درمیان یہ جنگ کتنی طویل ہوگی؟
مقبوضہ بیت المقدس، 13اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیل غزہ کی سرحد پر ٹینک جمع کررہا ہے،اپنیریرزو فوجیو ں کو متحرک کر رہا ہے،وزرا کہہ رہے ہیں کہ اب زمینی حملہ’’اگر’’کا نہیں بلکہ’’کب‘‘ کا معاملہ ہے۔ یہ سب اشارے ہیں کہ ایسا حملہ ناگزیر ہے۔یہ متوقع حملہ کیسے ہوگا؟اسے کس قسم کی مزاحمت کا سامنا ہوگا؟اسرائیل اور حماس کے درمیان یہ جنگ کتنی طویل ہوگی؟ اور اسرائیل اور حماس اپنے ماضی کے تجربات اور نئے وسائل کا استعمال کیسے کریں گے؟ کیا حماس کو ختم کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ اسرائیل کا مفروضہ ہے؟ کیا عسکریت پسند گروپ امریکہ کی کھلی حمایت کے حامل اسرائیل کا مقابلہ کر سکے گا؟ اور اگر کر سکے گا تو کیسے اور کب تک؟ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر کسی بھی حملے کی صورت میں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہوگا جس نے ایران کی مدد سے ایک مضبوط اسلحہ خانہ بنالیا ہے، حملہ آوروں سے بچنے کے لیے سرنگوں کا ایک نیٹ ورک تیار کر لیا ہے اور جو ماضی کی زمینی جنگوں میں یہ دکھا چکا ہے کہ وہ ہر بار اسرائیلی فوجیوں کو پہلے سے زیادہ جانی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی کے ایک ذریعے اور ماہرین نے کہاہے کہ غزہ پر کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیل جنرلز 2008 اور 2014 کی زمینی جنگوں سے سیکھے ہوئے سبق کو مد نظر رکھیں گے۔ ان جنگوں کا مقصد بھی فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کو کچلنا تھا۔فلسطینی بچے حماس کے لیے حمایت کے اظہار میں سر پر سبز پٹیاں باندھے مغربی کنارے میں 2021 میں احتجاجی مارچ کر رہے ہیں۔حماس اس وقت کے مقابلے میں اب پہلے سے زیادہ سخت مقابل کے طور پر سامنے آیا ہے۔اور سات اکتوبر کو اس نے اپنے قیام کے بعد سے اسرائیلی سرزمین پر ایک مہلک ترین حملے میں اپنی صلاحیت کا سب سے تباہ کن مظاہرہ اس وقت کیا جب اس کے جنگجووں نے 1300 سے زیادہ اسرئیلیوں کو ہلاک کردیا جن میں بیشتر عام شہری تھے۔
جوابی کارروائی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک غزہ کے1400 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔کسی بھی فریق پر یہ واضح نہیں ہے کہ زمینی جنگ میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ اسرائیل نے ایک ایسی مہم کا عزم کیا ہے جس میں حماس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے پہلے سے زیادہ وسائل اور ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔جب کہ حماس اپنی بقا اور حیران کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکی ہے اور وہ طاقتور ہتھیاروں کے ساتھ گنجان آباد علاقوں میں لڑ رہی ہوگی۔



