اقوام متحدہ کے تربیتی کیمپ پر اسرائیلی حملہ،9 افراد ہلاک 75 زخمی
ٹینکوں سے گولہ باری میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہو گئے
خان یونس؍غزہ، 25جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقوام متحدہ کے امداد سے متعلق ایک سینئر عہدہ دار نے بتایا ہے کہ خان یونس میں اقوام متحدہ کے ایک ٹریننگ سینٹر میں جہاں ہزاروں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے،ٹینکوں سے گولہ باری میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہو گئے۔اسرائیلی فورسز جنوبی غزہ کی پٹی میں اس علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔فلسطینی عہدے داروں نے کہا ہیکہ اسرائیلی فورسز نے اپنے حملوں سے جنوبی غزہ کے مرکزی اسپتالوں کو باقی علاقے سے کاٹ دیا ہے اور ہزاروں رہائشیوں اور ان لوگوں کے انخلا کا مرکزی راستہ بند کر دیا ہے جو شہر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔حملے سے متعلق گردش کرنے والی فوٹیج میں سیاہ دھوئیں کے بادل اس تربیتی مرکز کے اوپر آسمان پر بلند ہوتے دکھائے ہیں جسے فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی چلاتی ہے۔
غزہ کے امور سے متعلق ایجنسی کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ نے بتایا کہ سینٹر تک پہنچنے کی کوشش کرنے والی ادارے کی ایک ٹیم کا راستہ روک دیا گیا۔گولہ باری کے بارے میں سوالات کے جواب میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ زیادہ وسیع علاقہ حماس کے عسکریت پسندوں کا ایک اہم اڈہ تھا۔ فوج نے کہا کہ،مغربی خان یونس میں حماس کے فوجی فریم ورک کو تباہ کرنا اس کارروائی کے پس پشت کار فرما اصل جواز تھا۔اس سے قبل متعدد ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل اور غزہ کو چلانے والے حماس گروپ نے 30 دن کی جنگ بندی کے لیے پراکسی مذاکرات میں کچھ پیش رفت کی ہے، جس دوران اسرائیلی یرغمالوں اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور مزید امداد محصور شہر میں داخل ہو گی۔ایک ماہ میں اپنی سب سے بڑی کارروائی میں اسرائیلی ٹینکوں نے خان یونس میں پیش قدمی کی جہاں شمال سے، جو اس سے قبل جنگ کا مرکز تھا، آنے والے بہت سے فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
ان کا اہم ہدف بظاہر خان یونس میں ایک عرصے سے قائم پناہ گزین کیمپ کے ارد گرد کا علاقہ ہے، جس میں نصر اور الامل اسپتال اور وہ تربیتی مرکز بھی شامل ہے جسے فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی کی ٹیم چلاتی ہے۔ایجنسی کے ڈائریکٹر، وائٹ نے کہا کہ، آج سہ پہر خان یونس تربیتی مرکز پر حملے میں، ٹینک کے دو گولوں سے اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں 800 لوگ پناہ لیے ہوئے تھے اور اب خبر ملی ہے کہ اس میں نو لوگ ہلاک اور 75 زخمی ہوئے ہیں۔مقامی رہائشیوں نے خبر دی ہے کہ علاقے میں خونریز جھڑپیں ہوئیں، اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے اسنائپرز، ٹینکوں اور ہوائی فائرنگ سے متعدد بندوق بردار دستوں کو ہلاک کر دیا۔غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدر نے ایک بیان میں کہا کہ قابض(فوج) خان یونس کے اسپتالوں کو دوسرے علاقوں سے منقطع کر رہے ہیں اور شہر کے مغربی علاقے میں قتل عام کر رہے ہیں۔
فلسطینی ریڈ کراس سوسائٹی نے جو الامل اسپتال چلاتی ہے کہا ہے کہ فوجیوں نے اس کے عملے کو اندر بند کر دیا تھا اور علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا تھا، جس میں اس کا مقامی ہیڈ کوارٹرز بھی شامل تھا جہاں تین بے گھر افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجو اسپتالوں کے اندر اور ارد گرد فعال ہیں، اسپتال کا اسٹاف اور حماس اس کی تردید کرتے ہیں۔



