اسرائیلی نے بمباری کر کے غزہ میں تاریخی عمری مسجد شہید کر دی
غزہ: زمینی آپریشن میں ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 91 ہو گئی
غزہ،9دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے جمعہ کے روز اسرائیلی فوج کی طرف سے تاریخی عمری مسجد کی مسماری پر شدید دکھ کا اظہا کیا ہے۔حماس نے غزہ میں صدیوں سے قائم اس مسجد پر بمباری کرنے کو اسرائیل کے سنگین جرم سے تعبیر کیا ہے۔دریں اثناء حماس کے زیر اثر میڈیا نے اس بمباری کے بعد عمری مسجد کی مسماری سے متعلق تصاو یر بھی جاری کی ہیں۔تاہم برطانوی خبر رساں ادارے کے نمائندے کا کہنا ہے کہ وہ ابھی مسجد کی ہونے والی تباہی اور نقصان کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تاہم نمائندے نے یہ تسلیم کیا ہے کہ تصاویر میں جو مینار نظر آ رہے ہیں وہ اسی عمری مسجد کے ہیں۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسجد کی دیواریں گر گئی ہیں اور چھت کو کافی نقصان پہنچا ہے، اسی طرح پتھر کے بنے مینار کے نیچے بھی ایک بڑا شگاف بھی دیکھا جا سکتا ہے۔اس تاریخی مسجد کو بمباری سے مسمار کرنے کے بارے میں اسرائیلی فوجی ترجمان نے درخواست کے باوجود کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ واضح رہے غزہ میں عمری مسجد خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے منسوب ایک قدیمی اور بڑی مسجد ہے۔غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 17000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، ہر طرح کی عمارات بشمول گھر، سکول، مساجد اور ہسپتال مسلسل اسرائیلی بمباری کی زد پر ہیں۔
اسرائیلی تفتیش کار نے السنوار سے 180 گھنٹے کی پوچھ گچھ میں کس راز کا پتہ لگایا
غزہ ،9دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ میں حماس کے سربراہ یحییٰ السنوارایک پراسرار شخصیت ہے۔ وہ اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب ہے جسے اسرائیل 7 اکتوبر کے حملے کا ذمہ دار اور منصوبہ بند سمجھتا ہے۔السنوار کی شخصیت کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے سابق اسرائیلی شن بیٹ افسر مائیکل کوبی نے کہا کہ وہ غزہ میں حماس کے رہنما کو اس کی ماں سے بہتر جانتے ہیں۔ سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو اس نے بتایا کہ اس نے تفتیش کے دوران السنوارکے ساتھ تقریباً 180 گھنٹے گزارے۔کوبی نے کہا کہ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی عمر اس وقت 28-29 سال ہے۔آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟ آپ خاندان نہیں چاہتے؟’۔ اس نے مجھے جواب دیا کہ حماس میری بیوی، بچے اور حماس میرے لیے سب کچھ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ السنوار جو 2021 میں ایک اسرائیلی قاتلانہ حملے میں بچ گئے تھے کو اس بار مارنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے اہم ترین اہداف میں شمار کیے جاتے ہیں۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے رکن حسین عبد الحسین نے کہا کہ السنوار اسرائیل کے لیے اتنا ہی خطرناک اور مطلوب ہے جتنا امریکا کے لیے اسامہ بن لادن تھا۔ جس طرح امریکا نے بن لادن کا پیچھا کیا اور بعد میں اسے پکڑا، مجھے یقین ہے کہ اسرائیلی بھی ایسا ہی کریں گے اور یہ جنگ السنوار کو پکڑنے سے قبل ختم نہیں ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی اسرائیل کو السنوار کی معلومات فراہم کرتا ہے تو السنوار اسے اسرائیلیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ السنوار کو 1988ء میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں دو اسرائیلی فوجیوں اور چار فلسطینیوں کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور انہوں نے دو دہائیوں تک ایک اسرائیلی جیل میں گذارے تھے۔ انہیں حماس کی اندرونی سکیورٹی فورس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔اسے 2011 میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے رہا کیا گیا تھا۔
غزہ جنگ تیسرے مہینے میں داخل، دیر البلح اور جبالیہ کیمپ پر شدید اسرائیلی بمباری
غزہ،9دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) موصولہ اطلاع کے مطابق غزہ کی پٹی میں جنگ اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہونے کے بعد اسرائیل نے جمعہ کی صبح دیر البلح کے مشرق میں شدید بمباری کی ہے۔ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ بمباری کے نتیجے میں بہت سے عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔شہری وحشیانہ بمباری سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں کی طرف جانے کی کوشش کررہے ہیں مگر اسرائیلی فوج کی طرف سے انہیں کھلے مقامات میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متعدد زخمی افراد کو شہدا الاقصیٰ ہسپتال پہنایا گیا ہے۔ قابض فوج نے نصیرات کیمپ کو بھی اسی طرح کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے شہروں میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان کل جمعرات کو شدید جنگ جاری رہی۔
7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل اور فلسطینی تحریک حماس کے درمیان خونریز لڑائی اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہو گئی۔حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں محصور اور تباہ ہونے والے چھوٹے فلسطینی علاقے میں مرنے والوں کی تعداد جمعرات کو بڑھ کر 17,177 ہو گئی، جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔فضائی اور بحری تعاون کے ساتھ جمعرات کو اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر خان یونس پہنچے اور جنوبی غزہ کی پٹی کے اس سب سے بڑے شہر میں لڑائی ہوئی۔ حماس کے جنگجوؤں کی غزہ شہر اور پڑوسی جبالیہ کے علاقے کے شمال میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔شمال کی طرف درجنوں اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ کے پرانے شہر میں داخل ہوئیں۔ خان یونس میں فوج نے اعلان کیا کہ اس نے حماس کے متعدد ارکان کو ہلاک اور درجنوں اہداف پر بمباری کی ہے۔
ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق شمالی غزہ کے شہداء الاقصیٰ ہسپتال میں 24 گھنٹوں کے اندر 115 لاشیں پہنچیں۔جمعرات کو اسرائیلی چینلز نے ایسے کلپس نشر کیے جن میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی حراست میں درجنوں فلسطینیوں کو قید دکھایا گیا ہے جن کے جسموں پر معمولی کپڑے ہیں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی ہیں۔ادھر جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں النجار ہسپتال کے مردہ خانے کے فرش پر سفید پلاسٹک میں لپٹی تقریباً بیس لاشیں رکھی گئی ہیں، جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں۔ان لاشوں کے گرد ان کے پیارے روتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
غزہ: زمینی آپریشن میں ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 91 ہو گئی
مقبوضہ بیت المقدس،9دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ) غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ میں زمینی آپریشن میں ہلاک فوجیوں کی تعداد 91 ہو گئی ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 250 اہداف کو نشانہ بنایا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللّٰہ نے عالمی جنگ شروع کرنے کی کوشش کی تو بیروت اور جنوبی لبنان کو غزہ اور خان یونس بنا دیں گے۔علاوہ ازیں امریکا کے صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور انخلاء کے لیے محفوظ راہداری فراہم کرنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے انسانیت سوز حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 350 سے زائد فلسطینی شہید کر دیئے گئے۔اسرائیلی حملوں میں 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 17 ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے، شہداء میں نصف سے زائد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔وہیں القسام بریگیڈز نے متعدد اسرائیلی کمانڈوز کو ہلاک اور زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔القسام بریگیڈز کے مطابق اسرائیلی قیدیوں تک پہنچنے کی اسرائیلی فوجیوں کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے،حملے میں متعدد اسرائیلی کمانڈو ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔القسام بریگیڈز کے مطابق ہمارے حملے نے اسرائیلی فورسز کو ناکام واپس جانے پر مجبور کیا ہے۔اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں گرفتار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔



