بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ میں رہائشی علاقوں پر اسرائیلی بمباری، مزید 120 فلسطینی شہید

غزہ میں نسل کشی کا مشاہدہ نہیں ہوا‘، امریکی محکمہ خارجہ کی شرمناک ڈھٹائی

غزہ ،4 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ کے رہائشی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 120 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیلی فوج کی کارروائی میں ایک اسرائیلی یرغمالی مارا گیا۔غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار 637 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 57 ہزار 296 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شہدا میں 9 ہزار 100 سے زائد بچے اور 6 ہزار 500 سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 8 ہزار 663 بچے اور 6 ہزار 327 خواتین بھی شامل ہیں۔ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں پر صیہونی مظالم میں کوئی کمی نہ آسکی، مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں 83 بچوں سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 324 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 3 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہیومن افیئرز کے آفس (او سی ایچ اے) اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 31 دسمبر 2023 تک کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں 3 لاکھ 55 ہزار رہائشی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ 370 سے زائد تعلیمی مراکز بھی صفحہ ہستی سے مٹادیے گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے کے بعدغزہ کے 36 میں 23 اسپتال مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں، 123 ایمبولینسوں اور 203 عبادتگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔7 اکتوبر سے 3 جنوری 2024 تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 87 صحافی اپنے جانیں گنوا چکے ہیں، شہید ہونے والے صحافیوں میں بھاری اکثریت فلسطینی صحافیوں پر مشتمل ہے۔صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوانے والے صحافیوں میں 80 فلسطینی، تین لبنانی اور 4 اسرائیلی صحافی شامل ہیں۔

دوسری جانب بحیرہ احمر میں حوثیوں کے بحری جہازوں پر حملوں سے متعلق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔غزہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے حوالے سے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں ایک فلسطینی حکومت کے قیام پر بات ہوسکتی ہے لیکن یرغمالیوں کی رہائی مکمل جنگ بندی پر ہی ہوگی۔


غزہ میں نسل کشی کا مشاہدہ نہیں ہوا‘، امریکی محکمہ خارجہ کی شرمناک ڈھٹائی

واشنگٹن،4 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)انصاف پسند پوری دنیا غزہ میں اسرائیلی سفاکی کو ’نسل کشی ‘ سے تعبیر کر رہی ہے، لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ نے غزہ میں ایسی کارروائیوں کا مشاہدہ نہیں کیا ہے جو نسل کشی پر مبنی ہوں۔ امریکہ کا یہ موقف جنوبی افریقہ کی جانب سے فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی فوجی کارروائی پر عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ دائرہ کرنے کے بعد سامنے آیاہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان ملر نے بدھ کی نیوز بریفنگ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزام کے پس منظر میں کہا کہ یہ الزامات ہیں۔ ہم ایسی کارروائیاں نہیں دیکھ رہے جن پر نسل کشی کا اطلاق ہوتا ہو۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ محکمہ خارجہ کا عزم ہے۔ان سے جنوبی افریقہ کی جانب سے منگل کے روز کی گئی اس درخواست کے بارے میں پوچھا گیا تھا کہ عالمی عدالت ایک فوری حکم جاری کرے جس میں یہ اعلان کیا جائے کہ اسرائیل 1948 کے نسل کشی کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل کے اندر گھس کر کیے جانے والے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 22 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔محصور شہر غزہ کا ایک بڑا حصہ تباہ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اور وہاں کے 23 لاکھ رہائشیوں کو ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے میں 1200 کے لگ بھگ افراد ہلاک اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کے خاتمے اور یرغمالوں کو بازیاب کرائے بغیر ان کی جنگ نہیں رکے گی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ملر نے کہا ہے کہ ہمارے پاس یہ تعین کرنے کے لیے ایسا کوئی مواد موجود نہیں کہ وہاں جنگی جرائم یا انسانیت کیخلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button