‘ انرواکے خلاف اسرائیلی مسودہ قانون بد ترین انسانی تباہی لائے گا: انتونیو گوتریس
امریکہ،9اکتوبر (ایجنسیز )
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بے گھر اور جنگ زدہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے قائم یو این ایجنسی ‘ انروا’ کی سرگرمیاں روکنے کے لیے قانون بنانے سے باز رہے، اگر اسرائیلی قانون بن گیا تو غزہ میں بہت بڑی تباہی ہوگی۔سیکرٹری جنرل نے اس امر کا اظہار منگل کے روز رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ یہ اسرائیلی اقدام غزہ اور تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ان کوششوں کا گلا گھونٹ دے گا۔ اسرائیلی قانون پہلے سے جاری تباہ کن صورت حال کو مزید بڑھاوا دے گا۔
واضح رہے اسرائیلی پارلیمنٹ نے ماہ جولائی میں ایک مسودہ قانون کی ابتدائی منطوری دی تھی۔ اس قانون کی مکمل منطوری کے بعد اقوام متحدہ کے اس انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ‘ انروا’ کو ایک دہشت گرد ادارہ قرار دے دیا جائے گا۔ اسرائیل نے اس سے پہلے بھی اقوام متحدہ کے ذیلی امدادی اداروں سمیت ہر اس ادارے کے کام میں رکاوٹ پیدا کی ہے جو غزہ میں فلسطینیوں کی مدد کر رہے ہیں۔سیکرٹری جنرل کے ان خیالات کے سامنے آنے پر اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈانن نے ‘ رائٹرز’ کو بتایا ‘ اسرائیل ایسے امدادی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے جو واقعی امدادی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
لیکن یہ معاملہ دہشت گردی کا ہے۔خیال رہے اسرائیل کی غزہ جنگ میں اب تک تقریباً 23 لاکھ کی آبادی بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔ ان لاکھوں بے گھر افراد میں سے بہت بڑی تعداد کو بار بار نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ جبکہ اس دوران لگ بھگ 42 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کا ادارہ ‘ انروا ‘ ان بے گھر اور زیر محاصرہ فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہوں میں انتہائی بنیادی نوعیت کی ضروریات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج اور حکومت اس امدادی ادارے کو بھی دہشت گرد کہہ کر اس کی سرگرمیوں کو مکمل روک دینا چاہتی ہے۔