بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی وزیر خارجہ مراکش کے دورے پر

نیویارک ،11؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ #یائر لیپیڈ کے ساتھ #اسرائیلی پارلیمان کے اراکین کا ایک وفد اور اعلی عہدیدار بھی مراکش جا رہے ہیں جہاں وہ مراکشی عہدیداروں کے ساتھ متعدد امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وہ رباط میں اسرائیلی ڈپلومیٹک مشن کا افتتاح کریں گے اور کیسابلانکا میں واقع تاریخی یہودی عبادت گاہ بیت ایل کا دورہ بھی کریں گے۔اسرائیل اور چار عرب ممالک، مراکش، متحدہ عرب امارت، بحرین اور سوڈان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے امریکا کی ثالثی میں گزشتہ برس ہونے والے ‘معاہدہ ابراہیمی‘ کے بعد کسی اسرائیلی وزیر کا مراکش کا یہ پہلا دورہ ہے۔

یہ سن 2003 کے بعد سے کسی اسرائیلی وزیر کا مراکش کا پہلا دورہ بھی ہے۔ اس دورے کے دوران #لیپیڈ اپنے #مراکشی ہم منصب ناصر بوریتا سے ملاقات کریں گے۔مراکش ان چار عرب ملکوں میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ برس امریکی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے ،لیپیڈ نے رباط روانہ ہونے سے قبل ایک بیان میں کہاکہ یہ تاریخی دورہ ہماری دیرینہ دوستی اور مراکش میں یہودی برادری کی گہری بنیادی روایات کے تسلسل کا حصہ ہے۔

مراکش ان چار عرب ملکوں میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ برس امریکی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دیگرملکوں میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور #سوڈان شامل ہیں۔فلسطینیوں نے اس معاہدے پر ناراضگی ظاہر کی تھی اور اسے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

گزشتہ جون میں بینجیمن نیتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے اور اسرائیل میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ نئے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔پانچ ہفتے قبل ہی لیپیڈ نے متحدہ عرب امارات کا پہلا تاریخی دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اس دورے کے دوران عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا ذکر اور باہمی حریف ایران کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ 1948 میں #یہودی مملکت کے قیام سے پہلے تک مراکش میں یہودیوں کی بہت بڑی آبادی رہتی تھی۔ تاہم 1948سے 1964کے درمیان تقریباً ڈھائی لاکھ یہودی #مراکش سے اسرائیل منتقل ہو گئے۔ آج مراکش میں تقریباً تین ہزار یہودی آباد ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button