بین الاقوامی خبریں

لبنان میں زمینی سطح پر اسرائیلی کارروائیاں، حزب اللہ نے حیفا پر پھر راکٹ داغ دیئے

بیروت، 18نومبر (ایجنسیز ) اسرائیل کی زمینی فوج گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری حملوں کے دوران لبنان میں اب تک سب سے زیادہ اندر تک داخل ہوئی ہیں۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ادارے ’نیشنل نیوز ایجنسی‘ کے مطابق اسرائیل کی فوج نے لبنان کی سرحد سے پانچ کلومیٹر اندر واقع جنوبی گاؤں شاما کی ایک اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل پہاڑی پر مختصر وقت کے لیے قبضہ کیا اور پھر وہاں سے پیچھے ہٹ گئی۔جھڑپوں اور بمباری کے واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب لبنان اور حزب اللہ کے حکام جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے مجوزہ مسودے پر غور کر رہے ہیں۔

نیشنل نیوز ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شاما میں اسرائیلی فوجیوں نے پیغمبر شمعون کے مقبرے سمیت کئی مکانات تباہ کیے۔ تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔اسرائیلی فوج نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ فوج نے جنوبی لبنان میں محدود پیمانے پر آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے حزب اللہ کے گڑھ جنوبی قصبے دحیہ اور ساحلی شہر صور سمیت متعدد مقام پر بمباری کی ہے۔

ان فضائی حملوں میں شمال مشرقی گاؤں خریبہ میں ایک خاندان کے چھ افراد کی ہلاکتوں کی بھی اطلاع ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کو شمالی اسرائیل کے سب سے بڑے شہر حیفا پر حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں ایک یہودی عبادت گاہ کو نقصان پہنچا ہے اور دو شہری معمولی زخمی ہوئے ہیں۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے حیفا اور اس کے مضافات میں اسرائیل کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے پانچ میزائل داغے تھے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی بمباری سے لبنان میں 3400 سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں سے 80 فی صد گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران ہوئی ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی سرحد کے نزدیک آبادیوں میں محفوظ واپسی یقینی بنانا چاہتا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق جمعے کو ایک فوجی لبنان کے محاذ پر ہلاک ہوگیا ہے۔خیال رہے کہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک حماس کی طرح حزب اللہ کوبھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button