بین الاقوامی خبریںسرورق

نیتن یاہو قومی مفاد میں اقتدار چھوڑ دیں،اسرائیلی میڈیا کا مطالبہ

نیتن یاہو سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

مقبوضہ بیت المقدس، 22 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)اسرائیلی اخبار کے ایک اداریے میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک کو نئی قیادت، قومی اتحاد اور موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی میں مدد کرنے والے امریکی شہریوں کی گرفتاریوں پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اداریے میں نیتن یاہو کی قیادت پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ وہ مختلف ناکامیوں اور بڑھتے ہوئے داخلی دباؤ کے باوجود اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اخبار نے اسرائیلی معاشرے پر جنگوں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں ریزرو فوجیوں کو مسلسل فوجی خدمات انجام دینا پڑ رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگیوں اور خاندانوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اداریے میں لبنان میں جاری فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں ریزرو فوجیوں کو بار بار ڈیوٹی پر بلائے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق، طویل فوجی خدمات اور مسلسل جنگی دباؤ اسرائیلی معاشرے میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کی پالیسیاں سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔

اسرائیلی اخبار نے فوج میں بھرتی کے معاملے پر بھی تنقید کی ہے۔ اداریے میں کہا گیا ہے کہ جہاں ریزرو فوجیوں کو مسلسل خدمات انجام دینا پڑ رہی ہیں، وہیں قدامت پسند یہودی برادری کے بعض افراد کو فوجی خدمات سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اس صورتحال کو فوجی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور قومی اتحاد کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، امریکی رکنِ کانگریس جیمی راسکن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں کی زیتون کی فصل جمع کرنے میں مدد کرنے والے امریکی رضاکاروں کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی کسانوں کی مدد کرنے والے رضاکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جیمی راسکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں ڈیموکریٹک جماعت کے امیدوار بریڈ لینڈر، متان برنر کاڈش اور کم از کم 31 دیگر امریکی شہری شامل ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق، یہ افراد فلسطینی کسانوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی میں مدد کے لیے موجود تھے۔

مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی فلسطینی کسانوں کے لیے معاشی اور سماجی اہمیت رکھتی ہے۔ اس دوران کسانوں اور ان کی مدد کرنے والے رضاکاروں کو درپیش مشکلات کا معاملہ ایک بار پھر اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینی علاقوں میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق بحث کو نمایاں کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button