قومی خبریں

نیتن یاہو کو جنگی جرائم میں ماخوذ کرنے والے جج کی غیر جانبداری پر اسرائیلی اعتراض

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری

مقبوضہ بیت المقدس،14نومبر (ایجنسیز) اسرائیل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا دیا۔ فوجداری عدالت نے ججوں کا ایک پینل قائم کیا ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔اسرائیل کی طرف سے جج پر اٹھائے گئے اس اعتراض کے نتیجے میں پہلے سے لٹکے ہوئے وارنٹ گرفتاری کے اس معاملے میں مزید لٹکاؤ آ سکتا ہے۔

خیال رہے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے ماہ مئی میں نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ علاوہ ازیں حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی عدالت سے مانگے تھے۔تاہم ماہ مئی سے لے کر اب تک چھ ماہ کے دوران بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا ہے کہ عدالت اس بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے۔کیونکہ اسرائیلی حکومت اس معاملے میں مختلف قسم کے اعتراضات کر رہی ہے اور درخواستیں پیش کر رہی ہے۔ تاکہ عدالتی عمل آگے نہ بڑھ سکے۔

حتیٰ کہ اسرائیل نے عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے۔پچھلے ماہ اس فوجداری عدالت کے ایک اہم رکن جن کا رومانیہ سے تعلق ہے اپنی صحت کو بنیاد بنا کر اس پینل سے رخصت لے لی تھی۔ جس کی وجہ سے پینل کی عدالتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور مزید لٹک گئیں۔اسرائیل کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق اسرائیل نے اس پینل میں شامل ایک خاتون جج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اسرائیلی اٹارنی جنرل کے دفتر سے اس اعتراض پر مبنی دستاویز کو دیکھا ہے۔ جس میں اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل مؤدبانہ درخواست کرتا ہے کہ جج بیٹی اوہلر کی غیر جانبداری کا معاملہ واضح نہیں ہے۔اسرائیل کو فاضلہ جج کی پرانی ملازمت پر بھی اعتراض ہے۔ جو ان کی جانبداری کے معاملے کا اشارہ دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button