اگلا تھپڑ زیادہ تکلیف دہ ہوگا: اسرائیلی سیاست دان کا فرانسیسی صدر پر طنز
فلسطینی ریاست کی حمایت پر اسرائیلی سیاستدان کی دھمکی
پیرس / تل ابیب – 2 جون (اردو دنیا.اِن / ایجنسیز)اسرائیلی کنیسٹ کے متنازع رکن الموغ کوہن نے فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کو فلسطینی ریاست کی حمایت پر طنزیہ انداز میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کہا کہ "محترم صدر میکروں، سنا ہے آپ فلسطینی ریاست کے قیام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ گذشتہ رات پیرس میں جو افراتفری دیکھنے میں آئی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ واقعی ترقی کر رہے ہیں۔ اور یہ صرف فرانس میں ممکن ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا: "کچھ تو بتا رہا ہے کہ فرانسیسی عوام کو ملنے والی اگلی تھپڑ پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہوگی۔”
یہ طنزیہ جملہ غالباً اس ویڈیو کی طرف اشارہ تھا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں فرانسیسی خاتونِ اول نے ویتنام کے دورے کے موقع پر صدر میکروں کو مبینہ طور پر تھپڑ مارا تھا۔
کوہن نے مزید کہا: "سات اکتوبر کا دن ایک ٹریلر تھا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آگے کیا آ سکتا ہے۔ ویسے پیرس سینٹ جرمین کو شاندار میچ پر مبارکباد۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی حکام نے فرانسیسی صدر پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف موقف اختیار کر کے دراصل "جنگ چھیڑنے” کے مترادف قدم اٹھا رہے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہاکابی نے بھی فرانسیسی صدر کے بیانات کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا: "اگر فرانس واقعی فلسطینی ریاست چاہتا ہے، تو فرانسیسی ریویرا کا ایک حصہ نکال کر فلسطینیوں کو دے دے۔ مگر ایک خودمختار ریاست پر دبا ڈالنے کا حق کسی کو نہیں۔”
یاد رہے کہ میکروں نے گزشتہ جمعہ کو سنگاپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی ممالک کو اسرائیل پر دبا ڈالنا چاہیے تاکہ غزہ میں انسانی صورتحال بہتر ہو سکے۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کو مخصوص شرائط کے ساتھ تسلیم کرنے کو "اخلاقی فریضہ اور سیاسی تقاضا” قرار دیا تھا۔
بین الاقوامی دبا کے تحت اسرائیل نے گزشتہ ہفتے غزہ پر 11 ہفتوں سے جاری محاصرہ جزوی طور پر ختم کیا، جس کے بعد محدود امداد کی ترسیل ممکن ہو سکی۔
ادھر سفارتی ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق میکروں جلد ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں، جو نہ صرف اسرائیل کی ناراضی بلکہ مغربی ممالک میں مزید تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔
فرانسیسی حکام اس معاملے پر اقوام متحدہ کی اس اہم کانفرنس سے قبل غور کر رہے ہیں، جس کی میزبانی 17 تا 20 جون فرانس اور سعودی عرب مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کی سکیورٹی سے متعلق ایک روڈ میپ پر بات چیت متوقع ہے۔



