بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی صدر نے زخمی فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے سابق فوجی کو معاف کر دیا

سابق اسرائیلی فوجی ایلور ازاریہ کو صدارتی معافی

 مقبوضہ بیت المقدس، 21 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے 2016 میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں شدید زخمی فلسطینی شہری عبدالفتاح الشریف کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے سابق اسرائیلی فوجی ایلور ازاریہ کو صدارتی معافی دے دی ہے۔

یہ واقعہ 24 مارچ 2016 کو ہیبرون میں پیش آیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق عبدالفتاح الشریف اور ایک دوسرے فلسطینی نے ایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملہ کیا تھا، جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے الشریف زخمی ہو کر زمین پر گر گیا تھا۔

واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیو میں ایلور ازاریہ کو زخمی حالت میں زمین پر پڑے عبدالفتاح الشریف کے قریب جاتے اور اس کے سر میں گولی چلاتے دیکھا گیا تھا۔ گولی لگنے کے نتیجے میں فلسطینی شہری ہلاک ہوگیا تھا۔

ازاریہ نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسے خدشہ تھا کہ زخمی فلسطینی کے پاس دھماکا خیز مواد ہوسکتا ہے اور وہ اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ تاہم فوجی عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا اور اسے قتلِ غیرعمد کے جرم میں مجرم قرار دیا۔

اسرائیلی فوجی عدالت نے 2017 میں ازاریہ کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ وہ تقریباً نو ماہ جیل میں رہنے کے بعد مئی 2018 میں رہا ہوگیا تھا۔

اس مقدمے نے اسرائیل میں بھی خاصی بحث کو جنم دیا تھا۔ ایک طرف فوجی حکام نے کارروائی کے خلاف قانونی کارروائی کی حمایت کی، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کے بعض سیاسی حلقوں نے ازاریہ کی حمایت کرتے ہوئے اس کی سزا پر اعتراض کیا تھا۔

اب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ازاریہ کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے اس کا مجرمانہ ریکارڈ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر کے دفتر کے مطابق فیصلے میں ازاریہ کی سزا مکمل کرنے، واقعے کے بعد گزرنے والے وقت اور اس کی جانب سے زندگی کا نیا آغاز کرنے کی خواہش سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے صدارتی فیصلے کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے بھی ازاریہ کے حق میں ردعمل دیا۔

بن گویر نے کہا کہ ازاریہ نے ایک ایسے فلسطینی کو ہلاک کیا تھا جسے انہوں نے دہشت گرد قرار دیا، اس لیے ان کے مطابق فوجی کو سزا دینا درست نہیں تھا۔ انہوں نے صدر ہرزوگ سے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات کے حوالے سے بھی معافی کے اقدام پر غور کرنے کا مطالبہ کیا۔

نیتن یاہو کو اسرائیل میں بدعنوانی سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا ہے اور وہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

عبدالفتاح الشریف کی ہلاکت کا معاملہ اسرائیل فلسطین تنازع میں فوجیوں کی جانب سے طاقت کے استعمال اور جواب دہی کے حوالے سے ایک نمایاں مقدمہ بن گیا تھا۔ تقریباً ایک دہائی بعد سابق فوجی ایلور ازاریہ کو صدارتی معافی ملنے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور انسانی حقوق کی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button