غزہ میں قیدیوں کے انجام کے حوالے سے اسرائیلی عوام میں تشویش
اسرائیلی ذرائع نے اس حوالے سے شدید تشویش کی تصدیق کی ہے کہ انارکی کے نتیجے میں قیدی ہلاک ہو سکتے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس،2دسمبر ( ایجنسیز) گذشتہ دنوں کے دوران میں کئی امریکی ذمے داران باور کرا چکے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی اور حماس اور اسرائیل کے بیچ قیدیوں کے تبادلے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اسرائیلی عوام بالخصوص قیدیوں کے اہل خانہ کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اسرائیلی ذرائع نے اس حوالے سے شدید تشویش کی تصدیق کی ہے کہ انارکی کے نتیجے میں قیدی ہلاک ہو سکتے ہیں اور حماس تنظیم ان پر قبضہ کھو سکتی ہے۔
یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے بتائی۔چینل کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی ادارے نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ حماس تنظیم کو ختم کرنے سے قیدیوں کی آزادی کا اختیار رکھنے والا فریق برباد ہو جائے گا۔دوسری جانب منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی افراد نے قیدیوں میں شامل عیدان الیگزینڈر کے رشتے داروں کو آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ 20 جنوری کو وائٹ ہاوس میں اپنی واپسی سے قبل یرغمالیوں کی آزادی کا سمجھوتا طے کرانے میں بہت دل چسپی لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ دو روز قبل حماس نے ایک وڈیو جاری کی تھی جس میں الیگزینڈر نے ٹرمپ سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کی رہائی کے لیے کوشش کریں۔
الیگزینڈر نے اس معاملے سے نمٹنے کے سلسلے میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر کڑی تنقید کی تھی۔ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی پے در پے تنقید کا سامنا ہے۔ ان پر اس معاملے کو نظر انداز کرنے اور 100 سے زیادہ اسرائیلیوں کی زندگیوں کو جو سات اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی کے اندر ہیں، خطرے میں ڈالنے کے الزامات ہیں۔اسرائیلی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل آئزک بیرک کے نزدیک نیتن یاہو نے اپنی حکومت اور عہدہ بچانے کے لیے دو مرتبہ قیدیوں کو تنہا چھوڑ دیا۔
پہلی بار جب انھیں اغوا کیا گیا اور دوسری بار جب ان کی رہائی کے لیے مذاکرات سے انکار کیا۔وائٹ ہاو?س میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے کل اتوار کے روز باور کرایا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے تاہم ابھی تک کسی معاہدے تک نہیں پہنچا گیا۔
ادھر حماس کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ تنظیم ایسے تمام افکار اور تجاویز کو زیر بحث لانے کے لیے تیار ہے جن کے نتیجے میں جنگ رک جائے، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلا عمل میں آئے، نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی واپسی ہو جائے اور انسانی امداد داخل ہو سکے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کسی سنجیدہ سمجھوتے تک پہنچا جا سکے۔



