بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل میں بے شمار فلسطینی قیدیوں پر تشدد کے جرم میں ایک فوجی کو سات ماہ قید

اپنے موبائل فون سے ان واقعات کی ویڈیوز بھی بنواتا تھا

مقبوضہ بیت المقدس،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے ساڑھے پندرہ ماہ کی غزہ میں لڑی جانے والی اسرائیلی جنگ کے دوران اپنے ایک فوجی کو سزائے قید سنائی ہے۔ اس اسرائیلی فوجی پر الزام تھا کہ اس نے فلسطینیوں قیدیوں پر بے شمار بار بد ترین اور غیر انسانی تشدد کیا تھا۔اسرائیلی فوجی نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ جب فلسطینیوں کو ہتھکڑیاں لگا کر اور ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر لایا جاتا تھا تو وہ ان پر بد ترین تشدد کرتا تھا۔اس حال میں کہ جب ان فلسطینیوں کے ہاتھ ہتھکڑیوں سے بندھے ہوتے تھے اور آنکھیں کالے کپڑےسے ایسے بند کر دی جاتی تھیں کہ وہ کچھ دیکھ نہ سکیں تو یہ فوجی انہیں لاتوں، گھونسوں اور اپنے ہتھیاروں کے ساتھ تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔بتایا گیا ہے کہ اس کا تشدد بعض اواقت اس قدر زیادہ ہو جاتا کہ اس کے اپنے فوجی ساتھی بھی کہتے کہ بس کر دو یہ اس تشدد سے غلط جگہ پر مرجائیں گے۔

تاہم یہ تشدد جاری رکھتا اور اپنے موبائل فون سے ان واقعات کی ویڈیوز بھی بنواتا تھا۔ جس سے بعض اوقات بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر تنقید شروع ہو جاتی تھی۔فوجی بیان کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اس فوی کی طرف سے تشدد کے یہ واقعات تیمان کے فوجی مرکز میں پیش آتے تھے جو غزہ سے جڑا ہوا اسرائیلی فوجی مرکز ہے اور اس کے اندر فلسطینیوں کو قید کیا جاتا رہا ہے۔اسرائیلی فوجی عدالت نے قرار دیا ہے کہ اضافی ماسک کے ساتھ یہ فوجی فلسطینیوں پر ہولناک تشدد کا ذمہ دار پایا گیا ہے۔

تاہم فوجی عدالت نے اس فوجی کی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے اسے سات ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ لڑنے والے اسرائیلی فوجیوں کو آج کل یورپی ملکوں میں بھی قانونی چارہ جوئی اور عوامی رد عمل کا سامنا کرنے کے واقعات کا ڈر رہتا ہے۔ اس لیے ان فوجیوں کی شناخت چھپانا اسرائیلی فوجی عدالت بھی ضروری خیال کرتی ہے۔فوجی عدالت کے مطابق اس فوجی نے مسلسل تین ماہ سے زیادہ عرصے تک فوجی مرکز میں انکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر رکھے گئی فلسطینی قیادیوں کو سنگین قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتا رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button