قومی خبریں

غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی فوج میں خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ — اسرائیلی میڈیا

دفاعی اداروں میں تشویش

غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے باعث اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی دباؤ، ذہنی صدمات اور شدید تھکن کے نتیجے میں خودکشی کے واقعات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق دفاعی اداروں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوج کی مجموعی کارکردگی اور ذہنی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے طبی اور نفسیاتی محکموں نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران متعدد ایسے کیسز درج کیے ہیں جن میں اہلکار شدید ذہنی دباؤ، مسلسل محاذ پر رہنے کی تھکن اور غزہ میں جنگی مناظر کے صدمے سے متاثر پائے گئے۔ ان میں سے کچھ اہلکاروں نے خودکشی کا راستہ اختیار کیا، جبکہ متعدد اب بھی خصوصی مراکز میں نفسیاتی علاج حاصل کر رہے ہیں۔

فوج کے ایک سینئر ذریعے نے اعتراف کیا کہ غزہ جنگ کے دوران متواتر لڑائی میں شامل اہلکار بڑی تعداد میں "پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر” (PTSD) اور دیگر نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال کی شدت دیکھتے ہوئے فوجی نفسیاتی معاونت کے پروگراموں میں فوری توسیع کی جا رہی ہے تاکہ متاثرہ اہلکاروں کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی مسلح تنازعے میں اس نوعیت کی کیفیت پیدا ہونا غیر معمولی نہیں، مگر متاثرین کو مناسب ماحول، پیشہ ورانہ رہنمائی اور مستقل نفسیاتی مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی لاپرواہی مستقبل میں مزید بڑے بحران پیدا کر سکتی ہے۔

وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ فوجیوں میں بڑھتی خودکشی کی حقیقی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ اہلکاروں کی ذہنی صحت اور ان کی فلاح و بہبود ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button