اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری، غزہ پر تین اطراف سے اسرائیلی جارحیت، ڈھائی سو فلسطینی شہید
تل ابیب میں اسرائیلی افواج کے ٹھکانوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے: القسام بریگیڈز
غزہ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر فضائی، زمینی اور بحری اطراف سے حملے شروع کیے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد ہونے والے ان تباہ کن حملوں میں اموات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد جنگ بندی سے قبل والی تعداد تک پہنچ گئی ہے۔فلسطینی میڈیا نے غزہ میں محکمہ صحت کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ کی صبح سے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 240 اور زخمیوں کی تعداد 650 تک پہنچ گئی جب کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بنمدی کے بعد 400 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔تازہ ترین پیش رفت سے متعلق موجود ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کی صبح غزہ کے اطراف کی بستیوں پر دوبارہ راکٹ داغے گئے ہیں۔
اسی دوران فلسطینی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی بندوق بردار کشتیوں نے خان یونس کے ساحل پر اپنی گولا باری تیز کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج وسطی غزہ کی پٹی میں مشرقی المغازی اور دیر البلح کو نشانہ بنا رہی ہے۔دوسری جانب اسرائیل کے بھاری توپ خانے نے غزہ کے تمام علاقوں پر گولہ باری کی ہے جب کہ جنگی طیاروں سے بھی تباہ گن بم گرائے جا رہے ہیں۔فلسطینی نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے شیخ نصر اور بنی سہیلہ کے علاقوں میں شہریوں کے گھروں پر شیلنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا جس میں سیکڑوں فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ایجنسی کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے خان یونس شہر کے مشرقی زرعی علاقوں پر بمباری کی۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ پر جنگ کے نئے مرحلے کے پہلے دن غزہ کی پٹی میں 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔فوج نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس کی زمینی، فضائی اور بحری افواج نے آج غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب میں خان یونس اور رفح سمیت اہداف کو نشانہ بنایا اور حماس کے دسیوں ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ الد اور رملہ سمیت متعدد اسرائیلی قصبوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔ادھر حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کے روز غزہ شہر میں اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جبکہ اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے بھی اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی قابض افواج کے خلاف حملوں میں مصروف ہیں۔غزہ میں جنگ کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن 200 افراد ہلاک اور 600 کے قریب زخمی ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں مطلوبہ مشن مکمل کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، جس پر اس نے زمینی، سمندری اور ہوائی سے بمباری شروع کر دی تھی مگر اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر جنگ مسلط کر دی ہے۔
اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں بفر زون بنانے کا خواہاں ہے: ذرائع
مصری اور علاقائی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے کئی عرب ریاستوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ غزہ کی سرحد کے فلسطینی حصے پر ایک بفر زون یعنی غیر جانبدار علاقہ بنانا چاہتا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد انکلیو کی تجاویز کے حصے کے طور پر مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے۔تین علاقائی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اپنے منصوبوں کا تعلق اپنے ہمسایہ ممالک مصر اور اردن کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات سے جوڑا جو 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا۔یہ اقدام اسرائیل کی جارحیت کے فوری خاتمے کی نشاندہی نہیں کرتا ہے- جو سات دن کی جنگ بندی کے بعد جمعہ کو دوبارہ شروع ہو گئی – لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل مصر یا قطر جیسے مسلمہ عرب ثالثوں کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ وہ جنگ کے بعد کے غزہ کو ایک شکل دینا چاہتا ہے۔
کسی بھی عرب ریاست نے مستقبل میں غزہ میں امن وامان کے قیام یا وہاں کا انتظام سنبھالنے کے لیے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے اور زیادہ تر نے اسرائیل کے حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں 15,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور غزہ کے شہری علاقے وسیع پیمانے پر مسمار ہو گئے۔ حماس نے7 اکتوبر کو اپنے حملے میں 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 200 سے زائد کو یرغمال بنا لیا تھا۔تین علاقائی ذرائع نے قومیت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی جن میں سے ایک سینئر علاقائی سکیورٹی اہلکار نے کہاکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ یہ غیر جانبدار علاقہ (بفر زون) غزہ اور اسرائیل کے درمیان شمال سے جنوب تک ہو تاکہ حماس یا دیگر عسکریت پسندوں کو اسرائیل میں دراندازی یا حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔
مصری، قطری اور ترکی حکومتوں نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ اردنی حکام سے تبصرے کے لیے فوری رابطہ نہ ہو سکا۔متحدہ عرب امارات کے ایک اہلکار سے جب پوچھا گیا کہ کیا ابوظبی کو بفر زون کے بارے میں بتایا گیا تھا تو انہوں نے براہِ راست جواب نہیں دیا لیکن کہا کہ استحکام اور فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے متحدہ عرب امارات تمام متعلقہ فریقین کے اتفاقِ رائے سے جنگ کے بعد کے کسی بھی متفقہ انتظامات کی حمایت کرے گا۔بفر زون کے منصوبے کے بارے میں سوال پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مشیر برائے خارجہ پالیسی اوفیر فالک نے رائٹرز کو بتایاکہ منصوبہ اس سے زیادہ تفصیلی ہے۔ یہ حماس کے (خاتمے) کے بعد کے تین مراحل پر روبعمل لانے پر مبنی ہے۔اسرائیلی حکومت کے موقف کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا تین درجات میں حماس کو تباہ کرنا، غزہ کو غیر فوجی بنانا اور انکلیو کو غیر بنیاد پرست بنانا شامل ہے۔
تل ابیب میں اسرائیلی افواج کے ٹھکانوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے: القسام بریگیڈز
تحریک حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے ٹیلی گرام ایپلی کیشن پر اپنے چینل پر ایک بیان میں کہا کہ اس نے تل ابیب کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے۔ عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب راکٹ داغا گیا۔ اس کے بعد اسرائیلی علاقے میں سائرن بھی بجتا رہا۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ اللد اور الرملہ سمیت متعدد اسرائیلی قصبوں میں سائرن بجائے گئے۔
القسام بریگیڈز نے ٹیلی گرام پر کہا کہ اس نے شہریوں کے خلاف اسرائیلی قتل عام کے جواب میں تل ابیب پر راکٹوں کی بوچھاڑ کی ہے۔ القسام نے بتایا کہ اس سے قبل غزہ سٹی میں اسرائیلی افواج کے مراکز پر بھی بمباری کی گئی۔ تحریک اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے اعلان کیا کہ اس کے جنگجو غزہ سٹی میں شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔
القسام بریگیڈز نے مزید کہا کہ اس نے غزہ شہر کے شمال اور جنوب میں اسرائیلی فورسز کے ٹھکانوں کو درجنوں مارٹر گولوں سے بھی نشانہ بنایا ہے۔ جنگجوؤں نے شمالی غزہ کی پٹی میں بیت حانون میں ایک عمارت کے اندر تعینات اسرائیلی فٹ فورس کو چار اینٹی پرسنل اور اینٹی قلعہ بندی گولوں سے نشانہ بنایا۔ القدس بریگیڈز نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں کسوفیم بستی پر راکٹ فائر کر رہی ہے۔ غزہ شہر کے النصر محلے میں الرنتیسی ہسپتال کے قریب اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔



