گولان میں بفرزون پر اسرائیل کا کنٹرول 1974 معاہدہ کی خلاف ورزی : اقوام متحدہ
۔ اسرائیل اور شام پر لازم ہے کہ وہ 1974 کے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد جاری رکھیں اور گولان کے استحکام کا تحفط کریں
جنیوا،10دسمبر (ایجنسیز) اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ شامی گولان کے بفرزون کے اندر اسرائیلی فوج کی پیش قدمی 1974 میں اسرائیل اور شام کے بیچ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔اس معاہدے کے تحت سرحد پر بفرزون میں دونوں طرف سے فوج تعینات نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک نے واضح کیا کہ بفرزون میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج ابھی تک تین مقامات پر تعینات ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ اس علاقے میں فوج یا کسی عسکری سرگرمی کا وجود نہیں ہونا چاہیے۔ اسرائیل اور شام پر لازم ہے کہ وہ 1974 کے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد جاری رکھیں اور گولان کے استحکام کا تحفط کریں۔اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران میں شام میں گولان کی پہاڑیوں کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ پھر اکتوبر 1973 کی جنگ ختم ہونے کے بعد 1974 میں اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک معاہدہ طے پایا۔
اس معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کے زیر کنٹرول ہتھیاروں سے خالی ایک بفرزون قائم کر دیا گیا۔ اسرائیل نے گولان کے مقبوضہ حصے کو 1981 میں اپنی ریاست میں ضم کر لیا۔ اس اقدام کو امریکا کے سوا بقیہ عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔اسرائیل نے پیر کے روز عالمی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ اس نے شام کے ساتھ سرحد پر بفرزون میں محدود اور عارضی اقدامات کیے ہیں تا کہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے، بالخصوص اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑی علاقے کی آبادی کے لیے۔
و محاقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈانون نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ہم یہ باور کراتے ہیں اسرائیل شام میں مسلح جماعتوں کے بیچ جاری تنازع میں مدخلت نہیں کر رہا، ہماری کارروائیاں صرف اپنی سلامتی کے تحفظ پر مرکوز ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز باور کرایا کہ شام کی گولان کی پہاڑیوں کا جو حصہ اسرائیل نے قبضہ کر کے اپنے ساتھ ضم کیا تھا وہ ”ہمیشہ” اسرائیل کا رہے گا۔
بیت المقدس میں ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ گولان کی پہاڑیوں پر ہمارا کنٹرول ہماری سیکورٹی کا ضامن ہے، یہ یقینا ہماری خود مختاری کا ضامن ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کے روز اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ گولان کے مقبوضہ حصے کے متوازی بفرزون پر کنٹرول حاصل کر لے۔



