بین الاقوامی خبریں

غزہ میں اسرائیل کی فاقہ کشی کی پالیسی ناقابلِ قبول ہوگی، امریکی سفیر

غزہ میں اسرائیل کی فاقہ کشی کی پالیسی ناقابلِ قبول ہوگی، امریکی سفیر

 

نیویارک،17اکتوبر(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)

 

اقوام متحدہ اور الجزائر کی غزہ میں اسرائیل کی انسانی ہمدردی کی کوششوں پر تنقید۔امریکہ اسرائیل کی جانب سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ اس کی زمینی کارروائیوں سے یہ ظاہر ہو کہ وہ شمالی غزہ میں فاقہ کشی کی پالیسی پر عمل نہیں کر رہا۔ یہ بات اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے بدھ کو سلامتی کونسل کو بتائی۔لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ ایسی پالیسی خوفناک اور ناقابل قبول ہوگی اور اس کے بین الاقوامی قانون اور امریکی قانون کے تحت مضمرات ہوں گے۔تھامس گرین فیلڈ نے امریکہ کے دیرینہ اتحادی کی جانب امریکی موقف میں شدت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کی حکومت نے کہا ہے کہ یہ ان کی پالیسی نہیں ہے، خوراک اور دیگر دوسری ضروری رسد کو منقطع نہیں کیا جائے گا، اور ہم اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اسرائیل کے زمینی اقدامات اس بیان سے ہم آہنگ ہوں۔

امریکی حکام نے منگل کو کہا تھاکہ امریکہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی محصور علاقے میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اگلے 30 دنوں میں اقدامات کرے ورنہ امریکی فوجی امداد پر ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امدادکی توسیع پر تبادلہ خیال کے لیے بدھ کو ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔ بحث میں شریک تین عہدیداروں نے کہا کہ امداد میں جلد ہی اضافے کا امکان ہے۔تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ ”خوراک اور دیگر رسد کو فوری طور پر غزہ میں پہنچایا جانا چاہیے۔ اورحفاظتی ٹیکوں اور انسانی امداد کی ترسیل اور تقسیم کے لیے غزہ میں انسانی بنیادوں پر وقفے ہونے چاہئیں۔سات اکتوبر 2023 کو حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے جنوبی اسرائیل پر ایک مہلک حملے نے حماس کے زیر انتظام غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں محصور علاقے میں انسانی ہمدردی کا بحران پیدا ہو گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 42 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 2.3 23 لاکھ کی پوری آبادی بے گھر ہو گئی ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے کونسل کو بتایا کہ غزہ کا مسئلہ امداد کی کمی کا نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران 10 لاکھ ٹن سے زیادہ امداد کی ترسیل کی گئی تھی۔ انہوں نے حماس پر انسانی ہمدردی کی امداد کو ہائی جیک کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ کو بھاری مقدار میں امداد کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن جب تک حماس اقتدار میں رہے گا وہ ان تمام ضرورت مندوں تک کبھی نہیں پہنچ سکے گی۔

بقول ان کے، حماس انسانی ہمدردی کی صورتحال کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔حماس نے بارہا اسرائیل کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ امداد میں ہیرا پھیری کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس قلت کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔اقوام متحدہ نے طویل عرصے سے غزہ میں امداد پہنچانے اور اسے پورے جنگی علاقے میں تقسیم کرنے میں رکاوٹوں کی شکایت کی ہے۔ اس نے رکاوٹوں کا الزام اسرائیل اور لاقانونیت پر عائد کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ 2 اکتوبر سے 15 اکتوبر کے درمیان شمالی غزہ میں خوراک کی کوئی امداد نہیں پہنچی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button