
نابالغ طالبات کی عصمت دری کے بعد ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والا ٹیچر گرفتار
پاشوپتی ناتھ کشواہا پر الزام ہے کہ وہ نابالغ بچیوں کے ساتھ آبروریزی کرتا تھا اور ان کا ویڈیو بھی بنا لیتا تھا،
رانچی،6جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) راتو کے روی اسٹیل کے پاس واقع ایک کوچنگ سینٹر کے کوچنگ آپریٹر کی کالی کرتوت سامنے آئی ہے، جس سے استاد اور شاگرد کامقدس رشتہ ایک بار پھر تار تار ہوگیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد مقامی لوگوں کے ذریعہ کوچنگ آپریٹر کی جم کر پہلے پٹائی کی گئی اور پھر اس کو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ کوچنگ آپریٹر پاشوپتی ناتھ کشواہا پر الزام ہے کہ وہ نابالغ بچیوں کے ساتھ آبروریزی کرتا تھا اور ان کا ویڈیو بھی بنا لیتا تھا، جس کے بعد انہیں بلیک میل کیا کرتا تھا۔بتایا جارہا ہے کہ کوچنگ آپریٹر کے ذریعہ بچیوں کو گھر سے زیورات اور پیسے چوری تک کرنے کیلئے کہا جاتا تھا اور ان پر دباؤ بھی بناتا تھا کہ وہ گھر چھوڑ دے اور اس کے ساتھ دہلی چلے یا پھر ہاسٹل میں رہے۔
اس کی جانکاری دو بچیوں نے اپنے سرپرستوں کو دی، جس کے بعد مقامی لوگ کوچنگ سینٹر پہنچے اور جب وہاں کاغذات کی تلاشی لی تو یہ بات سامنے آئی کہ ملزم کوچنگ آپریٹر کے پاس کئی بچیوں کی تصاویر ہیں۔ وہیں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم کئی بچیوں کو بلیک میل کررہا تھا ۔اس سلسلہ میں سماجی کارکن کمود جھا نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات سے سماج شرمسار ہے اور آج کے ماحول میں اب بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ جس طرح سے تعلیم کے مندر میں غلط حرکتیں کی جارہی ہیں، اس سے اب بچیوں کو پڑھانے میں ڈر لگنے لگا ہے۔
وہیں اس معاملہ میں دیہات ایس پی نوشاد عالم نے بتایا کہ ملزم آبائی طور پر بہار کے سمستی پور کا رہنے والا ہے اور وہ فی الحال جھری گاؤں میں رہ کر میٹرک تک کے بچوں کو پڑھانے کا کام کرتا تھا، لیکن تعلیم کی آڑ میں وہ اپنی کالی کرتوت کو انجام دیتا تھا ۔معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے پاکسو ایکٹ کے تحت کیس درج کرلیا ہے اور پولیس معاملہ کو حل کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔ بتادیں کہ اس کوچنگ میں دسویں تک کے بچوں کو بڑھایا جاتا ہے، لیکن تعلیم کے نام پر کالی کرتوت کی کہانی سامنے آنے کے بعد تعلیم کا مندر بدنام ہوا ہے۔ بھلے ہی اس ملزم ٹیچر کے خلاف سخت کارروائی ہوجائے اور وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی چلا جائے، لیکن استاد اور طالب علم کے درمیان مقدس رشتہ اور بھروسہ پر اس کی ٹیچر نے ایک مرتبہ پھر سوال اٹھا دیا ہے۔



