بین ریاستی خبریں

زندگی بچانے کے لئے ماسک پہننا اور ٹیکہ لگانا ضروری ہے:گہلوت

جے پور، 13 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا کہ کورونا وائرس (کووڈ-19) کی عالمی وباء ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور زندگی بچانے کے لئے ماسک پہننا اور ٹیکہ لگوانا ضروری ہے۔مسٹر اشوک گہلوت نے یہ بات آج ضلع بانسواڑہ کے کوشل گڑھ علاقہ کے پوٹلیہ گاؤں میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ایم ایل اے رمیلہ کھڑیا کے شوہر ہورتنگ کھزیا کے مجسمے کی نقاب کشائی پروگرام میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کورونا وائرس کی تیسری لہر پھیل چکی ہے اور صورتحال خطرناک بنی ہوئی ہے اور ریاست میں کب پہنچے گی کسی کو پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا ابھی نہیں گیا ہے۔ بیکانیر میں #ڈیلٹا پلس کا معاملہ سامنے آیا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ یہ ریاست میں کب پھیل جائے گا۔مکمل احتیاط برتنے کی ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسک لگانا، ہاتھ دھونا اور ٹیکہ لگوانا ضروری ہے۔

جتنی لاپرواہی ہوگی، اتنی ہی پریشانی ہوگی۔وزیر اعلی نے کہا کہ ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں ٹیکہ کاری کے بارے میں کوئی جوش و خروش نہیں ہے۔ انہوں نے قبائلیوں سے کورونا ٹیکہ لگوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جان بچانے کے لئے ٹیکہ لگانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے بھی ٹیکہ لگانے کے بعد کورونا ہوگیا تھا، لیکن اگر #ٹیکہ لگانے کے بعد کورونا ہوتاہے تو اس کا اثر کم ہوتا ہے اور موت کا خطرہ نہیں ہوتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کہا کہ #راجستھان میں 10 فیصدایسے لوگ ہیں جو ٹیکہ نہیں لینا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری ریاستوں میں 15-20 فیصد لوگ ہیں جو ویکسین نہیں لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے قبائلی علاقوں میں بھی اس کمی کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر جان بچانا ہے، ہم سب ایک ہیں، ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی اور حکومت بھی اس پر مکمل کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری #لہر میں بھی #ریاستی #حکومت نے بہت اچھا کام کیا اور ممکنہ تیسری لہر کا بھی سامنا کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی علاقوں سمیت ریاست بھر میں ترقیاتی کام بند نہیں ہوئے ہیں۔ پانی، بجلی، سڑکیں، تعلیم اور صحت وغیرہ جیسے بڑے کاموں کو ہاتھ میں لیا گیا ہے۔

گھر گھر نل یوجنا کے تحت، مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں اور آنے والے سال 2024 سے پہلے ریاست کے 80 لاکھ سے زیادہ گھروں کو پانی کی سپلائی کی کوشش کی جارہی ہے۔مسٹر گہلوت نے کہا کہ ضلع بانسواڑہ میں مشہور بنیشور دھام کے لئے ایک الگ ڈیویلپمنٹ بورڈ قائم کیا گیا ہے اور 132 کروڑ 35 لاکھ روپے کے کاموں کی منظوری دی گئی ہے اور جلد ہی کام شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کشل گڑھ کی ترقی ہونی چاہئے، اس کا کام ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی طلبہ کو ملازمتوں میں ترجیح دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشل گڑھ میں سی ایچ سی کی ایک پرانی #عمارت ہے، جہاں ایک نئی عمارت تعمیر کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button