
لندن، ۲۲؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہزاروں افغان شہریوں کو 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک افغانستان سے نکالنا ناممکن ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے امریکہ سے شکایت کی ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر ان کی سکیورٹی بہت زیادہ سخت ہے جس کی وجہ سے یورپ کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں‘۔
امریکہ نے #افغانستان سے اپنے #فوجیوں کے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، لیکن #امریکی صدر جو #بائیڈن نے کہا ہے کہ ’اس تاریخ میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے‘۔امریکی فوج اس وقت کابل ایئرپورٹ کا نظام سنبھال رہی ہے اور #ایئر ٹریفک کو کنٹرول کر رہی ہے۔ جوزف بورل کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک میں جانتا ہوں امریکیوں نے نہیں کہا کہ وہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے آگے جائیں گے، لیکن ہو سکتا ہے کہ ان کا ذہن تبدیل ہو جائے‘۔وہ رواں ماہ کے آخر تک 60 ہزار افراد کو نکالنا چاہتے ہیں جو ناممکن ہے۔
جوزف بورل نے کہا کہ ’یورپ کے لیے انخلا کے حوالے سے ایئرپورٹ تک پہنچنا ایک مسئلہ ہے۔ امریکی سکیورٹی کے انتظامات بہت سخت ہیں جس کی وجہ سے افغان عملے کے لیے راستہ بند ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’برسلز نے امریکہ سے شکایت کی ہے اور نرمی کرنے کا کہا ہے۔یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار یورپی کونسل کے صدر اور یورپی کمیشن کی صدر کے ہمراہ اسپین کے ایک فوجی اڈے پر موجود ہیں جہاں افغانستان سے یورپی اور امریکی شہریوں کے علاوہ افغان اہلکاروں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یورپی یونین کے ساتھ کام کرنے والے 400 افغان شہریوں میں سے صرف 150 کو باحفاظت نکالا گیا ہے‘۔



