سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

سرگرمیوں کے سبب،بڑھاپے میں ذہنی انحطاط سے بچاؤ ممکن

اگر آپ بڑھاپے میں نسیان یا بھولنے کے مرض سے بچنا چاہتے ہیں جسے مخبوط الحواس (Dementia) بھی کہا جاتا ہے

ایک بڑے طبی جائزے نے آخر کار اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ بڑھاپے میں نسیان یا بھولنے کے مرض سے بچنا چاہتے ہیں جسے مخبوط الحواس (Dementia) بھی کہا جاتا ہے تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے دماغ کو مصروف اور متحرک رکھیں۔ اس جائزے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں، موسیقی کے آلات بجاتے ہیں یا اپنی روزمرہ کی مصروفیات کو نجی ڈائری میں محفوظ رکھتے ہیں ان میں ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کا خطرہ 23 فیصد کم ہوتا ہے۔ ادھیڑ عمر اور زیادہ عمر کے 20 لاکھ افراد کے درجنوں جائزے کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دماغ کو تیز رکھنے کا بہترین ذریعہ جسمانی سر گرمیاں ہیں۔ تقریباہر روز کوئی کھیل کھیلنا، یوگا کی مشقیں کرنے سے بھی نسیان سے 17 فیصد حفاظت ہو سکتی ہے۔ اور جو لوگ بہت زیادہ مصروف سماجی زندگی گزارتے ہیں ان میں تنہائی کے شکار افراد کے مقابلے میں مخبوط الحواس ہونے کا امکان 17 فیصد کم ہوتا ہے۔

ریسرچرز نے کہا ہے کہ کوئی کلب جوائن کرنا، رضاکارانہ خدمات کیلئے خود کو پیش کرنا، دوستوں اور خاندان کے لوگوں کے ساتھ وقت گزار نا یا دیگر تقریبات میں شریک ہونے کا بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ اس جائزہ رپورٹ کے اہم مصنف بیجنگ میں پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر لن لونے کہا ہے کہ ہمارے بڑے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ مصروف اور سر گرم رہنے کے اپنے فوائد ہیں اور اس قسم کی بہت ساری سر گرمیاں ہیں جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں شامل کر سکتے ہیں جن سے ہمارے دماغ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اس تجزیے کے نتائج جریدہ ’’نیورولوجی‘‘ میں شائع کئے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صرف برطانیہ میں ڈیمنشیا میں مبتلا 9 لاکھ افراد رہتے ہیں اور معمر افراد کی تعداد میں جوں جوں اضافہ ہو رہا ہے، اس قسم کے مریضوں کی تعداد اور زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ اس سے تقریباً سات گنازیادہ یعنی 62 لاکھ افراد امریکہ میں ڈیمنشیا میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری کا کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔ ڈاکٹر ز اس سلسلے میں جو دوائیں تجویز کرتے ہیں ان سے علامتوں کی شدت کچھ کم ہو جاتی ہے تاہم وہ اپنے مریضوں کو متوازن خوراک کھانے اور باقاعدگی سے ورزش کرنے پر زور دیتے ہیں اور یہ دونوں چیزیں مخبوط الحواسی سے تحفظ فراہم کرنے میں کار گر دیکھی گئی ہیں۔

اس بڑے تجزیئے میں دنیا بھر سے 38 جائزوں کو شامل کیا گیا تھا اور ان میں ایسے 21 لاکھ افراد کو شریک کیا گیا تھا جو مخبوط الحواسی میں مبتلا نہیں تھے۔ جائزے کی ابتدا میں یہ لوگ 45 سے 93 سال تک کی عمر کے تھے اس کے بعد ان شرکا کی تین سال سے 44 سال کے درمیانی عرصے تک نگرانی کی گئی۔

اس جائزے کے دوران ان میں سے 174 ہزار 7 سو افراد میں ڈیمنشیا کی شکایت پیدا ہوئی۔ ان کے مشاغل کے بارے میں معلومات سوالناموں یا انٹرویوز کے ذریعہ حاصل کی گئیں۔ تفریحی سرگرمیوں میں ان کاموں کو شامل کیا گیا جن سے ان لوگوں کو لطف حاصل ہو یا ان کی صحت اچھی رہی۔

ان سرگرمیوں کو ذہنی، جسمانی اور سماجی سر گرمیوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ذہنی یادماغی سر گرمیوں میں لطف حاصل کرنے کیلئے پڑھنا لکھنا،ٹیلی ویژن دیکھنا،ریڈیو سنا گیمز کھیلایا موسیقی کے آلات بجانا، کمپیوٹر استعمال کرنا اور دیگر چیزیں بنانا شامل تھیں۔

ریسرچرز نے کہا کہ ان مشغلوں کی وجہ سے ان کی یادداشت برقرار اور بہتر رہی، کام کو انجام دینے کی رفتار ٹھیک تھی، سوچنے اور نتیجہ تک پہنچنے کی صلاحیت بہتر رہی اور ذہنی انحطاط سے وہ لوگ محفوظ رہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن دیکھنے کا فائدہ یا نقصان واضح نہیں ہو سکا تاہم سابقہ جائزوں میں بتایا گیا تھا کہ بہت زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنے سے مخبوط الحواسی کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے دماغ لمبے عرصے تک معطل رہتے ہیں۔

اس تجزیے میں جن کاموں کو جسمانی سر گرمیوں میں شامل کیا گیا تھا ان میں پیدل چلنا، دوڑنا، تیرا کی، سائیکل چلانا، ورزش کی مشینیں استعمال کرنا، اسپورٹس کھیلنا، یوگا اور رقص شامل تھے۔ یہ معلوم ہوا کہ ورزش کرنے سے دل صحت مند رہتا ہے اور جسم میں خون کی گردش معمول کے مطابق ہوتی ہے۔

اگر دل کے مسائل پیدا ہو جائیں تو اس سے ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں دماغ تک خون کا بہائو کم ہو جاتا ہے جس سے اعصابی خلیات آکسیجن سے محروم ہوتے ہیں اور خلیات تیزی سے مرنے لگتے ہیں۔ تجزیے میں سب سے مقبول سماجی سر گرمیوں میں کوئی کلاس اٹینڈ کرنا، سماجی کلب میں شامل ہونا، رضا کارانہ خدمات انجام دینا، رشتے داروں یا دوستوں سے ملاقات کرنا یا مذ ہبی تقریبات میں شریک ہو نا شامل کئے گئے تھے۔ریسرچرز کا یہ کہنا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے سے دماغ کی اس طرح حفاظت ہوتی ہے کہ سماجی رابطے بڑھتے ہیں اور جذبات میں تحریک پیدا ہوتی ہے جبکہ افسردگی اور ذہنی دبائو کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جو ڈیمنشیا کیلئے دو خطر ناک عوامل سمجھے جاتے ہیں۔

ہیپا ٹائٹس کا گھریلو علاج

اجزاء: کاسنی کے پتے 20گرام ، قسط شیریں 100گرام، مہندی کے پتے 30گرام ۔
ترکیب : ان تمام اجزاء کو اچھی طرح پیس کر صبح اور شام پانی یا دودھ کے ساتھ 7دن کھائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کیلا، تربوز، خربوزہ اور کھیرا بھی لے سکتے ہیں، مفید ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button