اسرائیل تسلیم کرنے والی بات خالد مشعل کی نہیں صحافی کی ذاتی رائے تھی: حماس
اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے حماس کے رہنما خالد مشعل کے بیانات میں اپنی ذاتی رائے شامل کی
غزہ ، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس نے کہا ہے کہ صحافی جارجس مالبرونوٹ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے حماس کے رہنما خالد مشعل کے بیانات میں اپنی ذاتی رائے شامل کی ہے۔ 1967 کی سرحد پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے عزم کی بات خالد مشعل کی نہیں صحافی کی اپنی ذاتی رائے ہے۔حماس نے ایک بیان میں کہا کہ خالد مشعل کے صحافی جارج مالبرونوٹ کے ساتھ انٹرویو کے بارے میں جو کچھ پھیلایا جارہا ہے وہ درست نہیں۔ یہ انٹرویو فرانسیسی اخبار لی فیگارومیں شائع ہوا تھا۔ اس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے سے متعلق سوال بھی شامل تھا۔اخبار میں مذکورہ بالا صحافی نے اپنی رائے کا ایک مجموعہ پیش کیا ہے۔ مضمون میں تبصرے برادرم خالد مشعل کے واضح اور مخصوص بیانات سے میل نہیں کھاتے۔ خالد مشعل نے صہیونی وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، یہ واضح تضاد ہے۔اخبار میں جو پیش کیا گیا یہ صحافتی پیشہ ورانہ مہارت کے منافی ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہمارا واضح موقف یہ ہے کہ اسرائیل کے جواز کو تسلیم نہ کیا جائے۔ ہم نے اوسلو معاہدے سے سبق حاصل کیا ہے۔ خالد مشعل نے کہا کہ 1993 میں پی ایل او کی قیادت نے اسرائیل کو تسلیم کیا جس نے اسے کچھ نہیں دیا۔حماس کے بیرون ملک امور کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ جب فلسطینی ریاست کے قیام کا وقت آئے گا تو ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حماس ثالثوں کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بات چیت اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔تقریباً دو ہفتے قبل حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ایک رکن موسیٰ ابو مرزوق نے ان بیانات کو واپس لے لیا جس میں انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے حماس کی تیاری کا اشارہ دیتے ہوئے تنازع پیدا کردیا تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ حماس اسرائیل کے جواز کو تسلیم نہیں کرتی۔
حماس نے ابو مرزوق کے حوالے سے کہا کہ ابو مرزوق کے بیانات غلط فہمی کی بنا پر تھے۔ ابو مرزوق نے تصدیق کی ہے کہ حماس اسرائیل کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتی۔ ابو مرزوق نے ’’ال مانیٹر‘‘ سے گفتگو میں اپنے بیانات سے رجوع کرلیا ہے۔انٹرویو میں ابو مرزوق نے کہا کہ ان کی تحریک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا حصہ بننا چاہتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بتایا تھا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے 1967 کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں میں 1993 میں اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ تاہم حماس 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کے خیال کو مسترد کرتی ہے۔
اسرائیل نے قبرص کے راستے غزہ تک امداد پہنچانے کی ابتدائی منظوری دے دی
مقبوضہ بیت المقدس، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے لیے قبرص کو سمندری گزرگاہ بنانے کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔اس تجویز پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بات چیت کی جا رہی تھی۔ اس کا مقصد غزہ کی پٹی میں بڑی مقدار میں امداد پہنچانا ہے۔ غزہ میں لگ بھگ 24 لاکھ افراد پانی، خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی دائمی قلت کا شکار ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے 83 دنوں سے جاری بربریت میں 21320 فلسطینیوں کو شہید اور 55 ہزار سے زیادہ کو زخمی کردیا ہے۔
غزہ کی پٹی کی تقریبا ساری آبادی بے گھر ہوگئی ہے۔ عالمی اداروں نے غزہ کی پٹی میں قحط کے خطرے سے خبردار کر رکھا ہے۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں غزہ کے لیے انسانی امداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور ھیات نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اصولی طور پر ایک ایسے نظام سے اتفاق کیا ہے جو بین الاقوامی امداد کو براہ راست غزہ کی پٹی تک پہنچانے سے قبل قبرص میں اسرائیل کو اس سامان کی جانچ کی اجازت دے گا۔ اس طریقہ کار کی ابتدائی منظوری دی گئی ہے، لیکن ابھی بھی کچھ لاجسٹک مسائل حل ہونا باقی ہیں۔گذشتہ ہفتے اپنے دورہ قبرص کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے غزہ کے لیے سمندری راستے سے بھیجی جانے والی انسانی امداد کے لیے عملی اور تیز رفتار راستہ تلاش کرنے کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔



