بین الاقوامی خبریں

اٹلی کے اسکولوں میں برقع و نقاب پر پابندی کی تجویز، غیر ملکی طلبا کے لیے بھی نئے ضوابط زیرِ غور

روم، 21 ستمبر، (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں کے لیے مجوزہ نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں برقع اور نقاب پر پابندی، کلاس رومز میں غیر ملکی طلبا کی تعداد محدود کرنے اور بعض غیر ملکی طلبا کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنے کی شرط شامل ہے۔ یہ اقدامات تاحال قانون کا حصہ نہیں بنے اور انہیں کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمانی عمل سے گزرنا ہوگا۔

جارجیا میلونی نے یہ اعلان اتوار کو روم میں اپنی جماعت ’برادرز آف اٹلی‘ کے یوتھ ونگ ’جیوونتو نازیونالے‘ کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اطالوی وزیراعظم کے مطابق مجوزہ اقدامات کا مقصد اسکولوں میں انضمام کے عمل کو بہتر بنانا اور تعلیمی اداروں میں طلبا کے درمیان مؤثر رابطے کو یقینی بنانا ہے۔

مجوزہ پیکیج کے تحت اطالوی اسکولوں میں برقع اور نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ میلونی کا کہنا ہے کہ اسکول آنے والے طلبا کا چہرہ واضح ہونا چاہیے اور کسی نوجوان خاتون سے چہرہ ڈھانپنے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔

مجوزہ پابندی خاص طور پر ان لباس سے متعلق ہے جو چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپتے ہیں، جن میں برقع اور نقاب شامل ہیں۔ تاہم حجاب، جس میں بال اور گردن ڈھانپی جاتی ہے لیکن چہرہ نمایاں رہتا ہے، کے بارے میں وزیراعظم نے کسی پابندی کا اعلان نہیں کیا۔

غیر ملکی طلبا سے متعلق مجوزہ منصوبے میں ہر کلاس روم میں ان کی تعداد کے لیے ایک قانونی حد مقرر کرنے کی بات بھی شامل ہے۔ تاہم حکومت نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ ایک کلاس میں غیر ملکی طلبا کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی مقرر کی جائے گی۔

اس کے علاوہ بعض غیر ملکی طلبا کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنے کی شرط بھی زیرِ غور ہے۔ حکومت کے مطابق یہ شرط ان خاندانوں پر لاگو ہو سکتی ہے جہاں بچوں کو اطالوی تعلیمی نظام میں انضمام کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا ہو۔

میلونی نے کہا کہ جو افراد اٹلی میں آکر اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں، انہیں اطالوی زبان سیکھنے، ملک کی ثقافت کو سمجھنے اور قوانین کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔

اٹلی میں غیر ملکی طلبا کے حوالے سے پہلے ہی بعض ضوابط موجود ہیں۔ مخصوص حالات میں ایک کلاس میں غیر ملکی طلبا کی تعداد کے لیے 30 فیصد کی حد پہلے سے موجود ہے، تاہم نئی تجویز کے ذریعے حکومت موجودہ نظام میں مزید تبدیلیاں لانے پر غور کر رہی ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اطالوی اسکولوں میں زیر تعلیم غیر اطالوی شہریت رکھنے والے طلبا مجموعی داخلوں کا تقریباً 11.6 فیصد ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے کلاس رومز جہاں بڑی تعداد میں طلبا اطالوی زبان سے پوری طرح واقف نہ ہوں، وہاں تدریسی عمل اور تعلیمی نظام میں انضمام کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

چہرہ ڈھانپنے والے لباس سے متعلق اٹلی میں پہلے سے بھی قانونی ضوابط موجود ہیں۔ 1975 کے ایک قانون کے تحت ایسے لباس پر پابندی ہے جو کسی شخص کی شناخت میں مشکل پیدا کرے، تاہم بعض حالات میں اس حوالے سے قانونی استثنا موجود ہیں۔ بعد کے عدالتی فیصلوں میں مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس کے استعمال سے متعلق قانونی صورت حال کی مزید وضاحت کی گئی۔

حکومت کی جانب سے مجوزہ اقدامات کو کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں انہیں قانون سازی کے معمول کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے فی الحال برقع اور نقاب پر پابندی، غیر ملکی طلبا کی تعداد کی حد اور والدین کے لیے زبان سیکھنے کی شرط مجوزہ اقدامات ہیں، نافذ العمل قانون نہیں۔

مجوزہ قانون کی پارلیمانی کارروائی کے دوران اس کی حتمی شرائط، غیر ملکی طلبا کی تعداد کی حد اور والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنے سے متعلق ضوابط مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button