بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کا اشتعال انگیز بیان، کہا: ’پورا لبنان اسرائیل کا کھیل کا میدان بننا چاہیے‘

پورا لبنان اسرائیل کا ہدف ہونا چاہیے

تل ابیب، 22 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے لبنان کے خلاف مزید وسیع فوجی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا لبنان اسرائیل کے نشانے پر ہونا چاہیے۔ ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتمار بن گویر نے کہا کہ لبنان اور حزب اللہ کو الگ الگ سمجھنا ایک "مصنوعی نظریہ” ہے۔ انہوں نے کہا، "مجھے بتایا جاتا ہے کہ ایک لبنان ہے اور ایک حزب اللہ، لیکن میں اس سوچ کو قبول نہیں کرتا۔ پورا لبنان ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔”

بن گویر نے لبنان میں جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنی چاہئیں۔ اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ اسرائیل جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے جا رہا ہے۔ ان مذاکرات میں سرحدی سلامتی، جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت متوقع ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے دیگر وزراء بھی جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ جب تک حزب اللہ اپنی عسکری صلاحیتیں برقرار رکھے ہوئے ہے، اسرائیلی افواج کا انخلا مناسب نہیں ہوگا۔

ادھر لبنانی صدر جوزف عون نے امریکی اور قطری حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور مزید خونریزی روکنے پر زور دیا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں جاری جھڑپوں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بن گویر کے حالیہ بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور اسرائیل و لبنان کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button