خارش کی وجہ سے آج کل اکثر بچوں اور نوجوانوں کی آنکھوں میں ایک سرخی پائی جاتی ہے اور جو صاف شفاف آنکھیں ماضی میں بچوں کو نوجوانوں کی ہوتی تھیں وہ آج کل بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں۔آج کل بڑھتی ہوئی آلودگی اور موبائل اور کمپیوٹر اسکرین کے بے تحاشا استعمال نے بچوں بڑوں سب کی آنکھوں کو سرخی اور خارش کا تحفہ دیا ہے۔
آنکھوں کی خارش کا بنیادی سبب
آنکھوں میں ہونے والی خارش کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک الرجی اور دوسری انفیکشن۔ آنکھوں میں خارش اور سرخی ظاہر ہونے کی صورت میں سب سے پہلے اس بات کا تعین کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ الرجی ہے یا انفیکشن؟
موسم کے سبب ہونے والی الرجی
اگر سال کے کسی مقررہ وقت میں ہمیشہ آپ کی آنکھوں میں خارش ہو یا سرخی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس موسم سے الرجی کا شکار ہیں عام طور پر ایسا بہار کے موسم میں ہوتا ہے جب کہ زیادہ تر افراد ہوا میں پولن گرین کی موجودگی کے سبب پولن الرجی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمارے یہاں فروری س اپریل کے دوران ہو سکتی ہے۔
یاد رکھیں انفیکشن کی صورت میں صرف آنکھوں میں سرخی دیکھنے میں آتی ہے جب کہ الرجی کی صورت میں آنکھوں میں ہونے والی الرجی اور خارش کے ساتھ چھینکیں اور ناک سے پانی بہنا بھی علامات میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس الرجی سے بچنے کیلئے سال کے اس وقت میں جب یہ الرجی ہوتی ہے اس سے قبل اینٹی الرجی ادویات کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اس موسم میں جب الرجی ہوتی ہو زیادہ باہر جانے سے پرہیز کریں۔
سال بھر جاری رہنے والی الرجی
آنکھوں میں خارش اور سرخی کا سبب بننے والی یہ الرجی کسی خاص موسم اور وقت کی محتاج نہیں ہوتی ہے اور کسی بھی وقت میں اچانک شروع ہو سکتی ہے اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔
بعض اوقات اس کا سبب کسی قسم کی خوشبو، صابن یا شیمپو ہو سکتا ہے جب کہ بعض اوقات یہ کسی بھی چیز سے ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے اچانک آنکھیں سر خ ہو جاتی ہیں اور ان میں خارش بھی شروع ہو جاتی ہے۔
اس صورت میں الرجی کی وجوہات جاننے کے بعد ایسی چیزوں سے احتیاط محفوظ رہنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
آنکھوں پر ڈیجیٹل دباؤ کے اثرات
اگر بہت زیادہ دیر تک اسکرین کو دیکھتے رہیں تو اس سے نکلنے والی شعاعیں آنکھوں کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے آنکھوں میں خارش شروع ہو سکتی ہے اور آنکھیں خشک ہو کر سرخ ہو جاتی ہیں اس کے علاوہ اس حالت میں سر درد کی تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آنکھوں میں انفیکشن
آنکھیں جسم کا وہ حصہ ہوتی ہیں جن کا براہ راست سامنا جلد کی طرح ہر قسم کے بیکٹیریا یا وائرس سے پڑتا ہے۔ اس وجہ سے ان جراثیوں کے باعث ان مین انفیکشن ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
آنکھوں کے انفیکشن کی اکثر اقسام بہت تیزی سے پھیلنے والی ہوتی ہیں اور کسی بھی انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے منتقل ہوتی ہیں اس میں آنکھوں کا سفید حصہ سرخی مائل گلابی ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں انفیکشن کے علاج کے لئے ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی بایوٹک کا استعمال ضروری ہوتا ہے ورنہ اس کے بغیر انفیکشن ختم نہیں ہوتا ہے۔
آنکھوں کی خشکی
’’آنسو‘‘ پانی، نمکیات اور میوکس کا ایک مجموعہ ہوتے ہیں جو ہماری آنکھوں کو نم اور تروتازہ رکھتے ہیں بعض اوقات آنکھوں میں آنسو بننے کا عمل رک جاتا ہے جس کی وجہ سے آنکھ خشک ہو جاتی ہے۔ اکثر یہ تکلیف بڑی عمر کے افراد میں زیادہ ہوتی ہے۔
مگر کبھی کبھار ذیابطیس کی بیماری بھی آنکھوں کی خشکی کا سبب بن سکتی ہے یا پھر بلڈ پریشر کی دوائیں اینٹی ڈپریشن دوائیں یا مانع حمل ادویات کا استعمال بھی آنکھوں میں خشکی کا سبب بن سکتا ہے۔ آنسو بنانے والے گلینڈ کی نالی کے بند ہونے کے سبب بھی یہ مسلہ لاحق ہو سکتا ہے۔بہت زیادہ وقت کھلی اور ہوا دار جگہ پر گزارنے کے باعث بھی آنکھوں کی نمی بیرونی ہوا سے ختم ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے آنکھوں میں خارش اور سرخی پیدا ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے آنکھوں کے ڈاکٹر ایسے ڈراپ تجویز کرتے ہیں جو کہ آنکھوں میں مصنوعی آنسو پیدا کرتے ہیں اور نمی بحال رکھتے ہیں۔
لینس کا استعمال
آنکھوں میں لینس کا استعمال بعض افراد میں خارش کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ لینس کی صفائی کا خیال نہ رکھنا بھی ہو سکتا ہے یا پھر زیادہ دیر تک آنکھوں میں لینس لگے رہنے کے سبب بھی یہ شکایت ہو سکتی ہے۔
آنکھوں کی خارش کا آسان علاج
آنکھیں نعمت ہیں اس وجہ سے ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ان اقدامات کو کرنے سے نہ صرف آنکھوں کی خارش سے بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کو دور بھی کیا جا سکتا ہے۔
آنکھوں کی صفائی اور آرام کا خیال رکھیں۔خارش کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ڈراپ کا استعمال کریں۔
ٹھنڈے پانی سے آنکھ دھونے سے اس میں آرام مل سکتا ہے۔
گھر سے باہر نکلتے ہوئے گلاسز کا استعمال کریں۔ اسکرین ٹائم محدود کریں۔ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ان تمام تدابیر کے باوجود بھی آنکھوں کی خارش اور سرخی میں آرام نہ ہو تو اس صورت میں آنکھوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ ٭؎
| ⇦Join Urdu Duniya WhatsApp Group. |



