صحت اور سائنس کی دنیا

کٹہل: غذائیت سے بھرپور پھل کے حیران کن فوائد

حکیم محمد عدنان حبان نوادر رحیمی شفاخانہ بنگلور

کٹہل: فوائد، غذائی اجزاء، اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں مکمل جائزہ

نام: ہندی کٹہل، کٹھل، سنسکرت پنس، مرہٹی اور گجراتی پھنس، بنگالی کانٹا، لگاچھ، لاطینی آرٹوکارپس انٹگیری فولیا اور انگریزی میں انڈین جیک ٹری (Indian jackfruit tree) کہتے ہیں۔

شناخت: کٹھل کا درخت 45 سے50 فٹ اونچا ہوتا ہے اور سدا بہار ہوتا ہے۔اس کی چھال کو چھیدنے سے دودھ نکلتا ہے۔پتیل سوڑے کے پتے جیسے 4-5انگل لمبے اور گول ہوتے ہیں۔ٹہنیاں موٹی پھلوں کے بوجھ سے جھکی رہتی ہیں۔پھول پر کشش ہوتے ہیں۔پھل ماگھ اور پھاگن میں لگتا ہے جو جیٹھ اور اساڑھ میں بہت بڑے بڑے ایک سے بیس بائیس کلو تک کے ہو جاتے ہیں پھلوں کے اوپر کا چھلکا بہت موٹا ہوتا ہے، جڑکے قریب سے نکالاہواپھل میٹھا اور طاقت دینے والا ہوتا ہے۔کٹہل کے زیادہ کھانے سے بد ہضمی ہو جاتی ہے۔اس لئے بقدر ہضم ہی استعمال کرنا چاہئے۔یوپی، بہار اور بنگال میں بکثرت پیدا ہوتا ہے۔رنگ باہر سے سبز اور اندر سے زرد ہوتا ہے۔

مزاج: دوسرے درجہ میں گرم ،پہلے درجہ میں خشک۔

فوائد: کچے پھل کو بطور سبزی کھاتے ہیں پکے پھل کو بطور میوہ کے استعمال کرتے ہیں۔ویرج پیدا کرتا ہے۔اس کامربہ اور حلوہ بنا کر بھی کھاتے ہیں۔دیر ہضم ہے۔اس لئے خالی پیٹ کبھی کٹہل استعمال نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی پیٹ کی گیس وجگر کے مریضوں کو استعمال کرانا چاہئے۔ بیج بھون کر کھانے سے اخروٹ جیسا فائدہ ہوتا ہے۔درخت اور پھل کا دودھ سوجن دور کرتا ہے۔اسے لیپ کی صورت میں سوجن وپھوڑے پر لگا نا چاہئے۔اس کے نرم پتے بھی پھوڑوں کو خشک کرتے ہیں۔

جدید تحقیقات: اس میں کاربوہائیڈریٹس19فیصد،پروٹین 1.9فیصدکے علاوہ کیلشیم، آئرن، فاسفورس، وٹامن اے اور وٹامن سی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کی حراری طاقت 84 کیلوری فی 100 گرام ہے۔ اس کے بیجوں میں کاربوہائیڈریٹس 38.4 فیصد، پروٹین 6.6 فیصد موجود ہوتی ہے اور ان میں کیلشیم،فاسفورس اور آئرن کی مقدار بھی نسبتاًزیادہ پائی جاتی ہے۔ بیجوں میں بھی حراری طاقت 184کیلوریز فی 100گرام بتائی جاتی ہے۔
ماہیت: کٹھل کا درخت بہت بڑا ہوتا ہے۔ جس میں گولر کی مانند درخت کی شاخوں اور تنے سے پھل نکلتے ہیں۔ جس قدر جڑ کے قریب پھل نکلے گا۔ اسی قدر شاداب و شیریں ہو گا۔ پھل ایک کلو سے کئی کلو تک ہو سکتا ہے۔ خام ہونے کی حالت میں پھل کا پوست سبز اور پختہ ہونے پر زردی مائل ہو جاتا ہے۔ پوست کے اوپر ابھار ہوتے ہیں اور پھل کے اندر کم و بیش سو عدد تک دانے ہوتے ہیں۔ ان دانوں کے اندر گٹھلیاں ہوتی ہیں۔ ان کو بھی بھون کر کھایا جاتا ہے۔

مقام پیدائش: تمام ہند وپاک میں ہر جگہ۔

مزاج: گرم و خشک درجہ اول

افعال و استعمال: کٹھل خام پکا کر بطور نانخورش (سبزی کے طور) استعمال کیا جاتا ہے اور پختہ پھل کو بطور میوہ استعمال کرتے ہیں یہ نفاخ اور دیر ہضم ہے لیکن اگر بخوبی ہضم ہوجائے تو مقوی باہ اور مولد منی ہے۔ تقویت باہ کے لئے اس کا مربہ اور حلوہ بناکر بھی کھایا جاتا ہے۔

نفع خاص: خام کٹھل مقوی باہ مولد منی۔

مضر: غلیظ خون پیدا کرتا ہے۔

مصلح: نمک زعفران مشک۔

کیمیاوی اجزاء: تازہ اور پختہ پھل میں کاربوہائیڈریٹس 18 سے 19فیصد پروٹین 19 فیصد کے علاوہ کیلشیم، آئرن ، فاسفورس، وٹامن اے اور وٹامن سی پائے جاتے ہیں۔سو گرام کھانے سے 84کیلوری حاصل ہوتی ہے۔بیجوں میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین کے علاوہ کیلشیم، فاسفورس اور آئرن کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ سو گرام بیج کھانے سے 184کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔

قلب کیلئے

سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کٹھل میں موجود وٹامن سی سوجن کو روک سکتا ہے، جو دل کی بیماری جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پھل میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول کرکے دل کے دورے کو روک سکتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن بی ہومو سسٹین کی سطح کو کم کرسکتے ہیں۔ ہومو سسٹین ایک ایسا عنصر ہے جو دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، اسی طرح اس پھل میں موجود آئرن دل کو مضبوط رکھتا ہے۔

نظام ہضم کیلئے

کٹہل پھل فائبر کا ایک اچھا ذریعہ ہے، جو ہاضمہ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ فائبر آنتوں کے خلیوں کو صحت مند رکھنے کے لئے کام کرتا ہے۔ فائبر ہاضمے کو بہتر بناتے ہوئے قوت ہاضمہ کو بڑھاتا ہے ۔ فائبر سے بھرپور اشیاء کھانے سے پیٹ سے متعلق مسائل جیسے قبض، اسہال اور گیس وغیرہ کا علاج ہوتا ہے۔

موٹاپے کیلئے

موٹاپا دنیا بھر میں صحت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہونا موٹاپا کی خاص وجہ ہے۔ موٹاپا بہت سے معاملات میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور کینسر وغیرہ کا سبب بن سکتا ہے۔ کٹہل میں وٹامن سی بھرپور ہوتا ہے، لہذا یہ موٹاپا کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کٹہل میں موجود اینٹی آکسی ڈینٹ موٹاپا کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ کٹہل اینٹی آکسیڈینٹ کا ایک اچھا ذریعہ ہے ، جو وزن، بی ایم آئی اور چربی کے بڑے پیمانے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ہڈیوں کیلئے

ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے کٹہل بہت فائدے مند ہے اس میں کیلشیم پایا جاتا ہے، جو ہڈیوں کی طاقت اور نشوونما کے لئے ضروری عنصر ہے۔ جسم کیلشیم نہیں بناتا ہے، لہٰذا جسم میں کیلشیم سے بھرپور غذائیں ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔ آپ صحت مند ہڈیوں کے لئے اپنی غذا میں کٹہل کو شامل کرسکتے ہیں۔

سرطان کیلئے

سرطان جیسی مہلک بیماریوں سے بچنے کے لئے بھی کٹہل کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جیک پھلوں میں لائیٹانز، آئس فلاونس اور سیپوننز جیسے فائیٹن نیوٹریوں سے بھرپور پایا جاتا ہے، جو کینسر سے لڑنے کے لئے ضروری ہیں اس کے علاوہ کٹہل میں موجود اینٹی آکسی ڈینٹسٹ کی خصوصیات فری ریڈیکلز کو غیر موثر بناتی ہیں اور کینسر سے بچاتی ہیں۔

کٹہل وٹامن سی کا ایک اچھا ذریعہ بھی ہے اور وٹامن سی کینسر کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے ایک تحقیق میں بچہ دانی کے کینسر سے لڑنے میں اس کی اہمیت مسلم۔ اس کے علاوہ اس میں موجود غذائی ریشہ معدہ اور غذائی نالی کے کینسر سے بچا تا ہے۔

قوت مدافعت کیلئے

قوت مدافعت کے نظام کے لئے کٹہل کے فوائد بہت ہیں۔ اس میں وٹامن سی موجود ہوتا ہے، جو جسم کی قوت مدافعت کو مستحکم کرنے کا کام کرتا ہے۔ وٹامن سی ایک موثر اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر کام کرکے مدافعتی نظام کو صحت مند رکھتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے دور رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

آنکھوں کیلئے

کٹہل میں وٹامن اے اور سی کی بہتات ہوتی ہے اور یہ دونوں غذائی اجزاء آنکھوں کے لئے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔ ایک تحقیق میں سائنس دانوں نے پایا کہ وٹامن سی کی مناسب مقدار لینے سے عمر سے متعلق آنکھوں کے مرض کا خطرہ کم ہوسکتا ہے ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق وٹامن سی سے موتیا کے خطرہ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ صحت مند آنکھوں کے لیے آپ اپنی غذا میں کٹہل شامل کرسکتے ہیں۔

خون کی کمی کیلئے

انیمیا جیسی بیماریوں کے لئے بھی کٹہل کے فوائد اہمیت کے حامل ہیں۔ خون میں سرخ خلیوں کی کمی کی وجہ سے ہونے والی طبی حالت اینیمیا ہے۔ انیمیا کی روک تھام کے لئے کٹہل کا استعمال کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ آئرن کا ایک اچھا ذریعہ ہے اور آئرن خون کے سرخ خلیوں کی نشوونما میں مدد کرتا ہے۔ خون کی کمی کی بنیادی وجہ جسم میں آئرن کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ، کٹہل میں وٹامن بی 6 بھی بھرپور ہے۔ یہ غذائیت خون کے سرخ خلیوں کو فروغ دینے میں بھی کام کرتا ہے اور جسم سے خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔

بلڈ پریشرکیلئے

دوران خون میں بھی کٹہل کے فوائد دیکھے گئے ہیں۔ کٹہل میں پوٹاشیم اور سوڈیم بھرپور پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بلڈپریشر کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ خون کی نالیوں کو صاف کرنے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، ہائی بلڈ پریشر کی روک تھام اور علاج کے لئے پوٹاشیم شامل کیا جانا چاہئے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو سوڈیم یعنی نمک کی مقدار کو کم کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک ہی وقت میں کٹہل میں پوٹاشیم زیادہ اور سوڈیم کی مقدار کم ہوتی ہے، لہٰذا جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کی دشواری ہے وہ اپنی غذا میں بھی کٹہل ضرور شامل کریں۔

ذیابیطس کیلئے

ذیابیطس کی روک تھام کے لئے بھی کٹہل کی خصوصیات کو دیکھا گیا ہے۔ جیک پھل میں وٹامن بی کی بہتات ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے انسولین کی کارکردگی کو بہتر بناسکتی ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق کچے کٹہل کا پھل ذیابیطس کی ابتدائی علامات کو ختم کر سکتا ہے، اس پھل کی دوائی کی خصوصیات کا بھی ذکر ہندوستانی نظام طب میں کیا گیا ہے۔لیکن پکا ہوا پھل شوگر میں زیادہ استعمال نقصان کرتا ہے۔

تھائی رائیڈ کیلئے

تھائرائد کی بیماری میں یہ پھل اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ کٹہل تانبے یعنی کاپر کا ایک اچھا ذریعہ ہے، جو تھائرائد میٹابولزم بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تھائرائد کی خرابی کے لئے تانبا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق، ہائپوٹائیڈائزم کے مریضوں کے لئے وٹامن سی اہم عنصر ثابت ہوتا ہے۔ ہائپوٹائیرائڈیزم ایک ایسی طبی حالت ہے جس میں تائرایڈ گلٹی تائیرائڈ ہارمون پیدا نہیں کرتی ہے۔

جلد کی صحت کیلئے

جلد کے لئے بھی اس پھل کے بہت سے فوائد ہیں۔ کٹہل میں وٹامن سی کی بھرپور مقدار موجود ہے، جو جلد کو نقصان پہنچانے والے فری ریڈیکلز سے لڑنے کے لئے کام کرتا ہے۔ ایک ہی وقت میں، وٹامن بی جلد کے خلیوں کی تعمیر نو میں مدد کرتا ہے۔ وٹامن سی کی اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات اور اس کی کولیجن تشکیل دینے کی صلاحیت اسے جلد کے لئے ایک خاص غذائیت کا درجہ دیتی ہے۔ کچھ مطالعات کے مطابق وٹامن سی جلد کو سورج کی نقصان دہ الٹرا وایلیٹ شعاعوں سے بچانے کے لئے کام کرتا ہے۔

کٹہل جلد کو ہائیڈریٹ کر کے سوکھاپن کو کم کرنے کے لئے بھی کام کرسکتا ہے۔ کٹہل بھی فائبر کا ایک اچھا ذریعہ ہے، جو جسم سے زہریلے مادے نکالتا ہے۔ آپ جلد کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے کٹہل کو اپنی غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button