تلنگانہ/جگتیال ـ۔ 10 دسمبر: (بذریعہ ای میل) ضلع کلکٹر جگتیال مسٹر جی روی نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مکمل منصوبہ کے تحت ہریتا ہارم پروگرام کے پودوں کو تیار کرتے ہوئے شجرکاری کے طے شدہ نشانہ کو مکمل کریں۔ انہوں نے تاکید کی کہ سال 2020-21 کے لیے مقررہ اہداف کی تکمیل کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے دفتر ضلع کلکٹر میں منعقدہ ڈی ایل ایم سی سی اجلاس میں ایڈیشنل کلکٹر، ضلعی عہدیدار برائے محکمہ جنگلات جی وینکٹیشور راؤ، اور دیگر حکام کے ساتھ شرکت کی۔ اس موقع پر ضلع کلکٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ماحولیاتی توازن اور جنگلاتی رقبہ میں اضافے کے لیے ہریتا ہارم جیسے عظیم پروگرام کو متعارف کیا ہے۔
جی روی نے کہا کہ اب تک چھ مراحل میں شجرکاری کی گئی ہے اور ساتویں مرحلہ میں گزشتہ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر منصوبہ بندی کی جائے۔ سڑکوں کے کناروں پر شجرکاری کے لیے گڑھے کھدوائے جائیں اور ضلع کے 380 مواضعات اور 5 بلدیات میں سرکاری و خانگی عمارتوں کے احاطوں میں بھی پودے لگائے جائیں۔
ہر پودے کے تحفظ کے لیے جانوروں سے بچاؤ کی باڑ لگانے کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ضلع کلکٹر نے بتایا کہ گزشتہ سال 83,44,900 پودوں کے ہدف کے مقابل 85,09,131 پودے لگائے گئے اور 101.97 فیصد تحفظ کو یقینی بنایا گیا، جو اطمینان بخش ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ ساتویں مرحلہ میں بھی صد فیصد شجرکاری اور تحفظ پر زور دیا جائے۔ آئندہ سال جون میں شجرکاری کے لیے گہرے اور چوڑے گڑھے کھدوائے جائیں تاکہ پودوں کی جڑیں بہتر نشوونما پا سکیں۔
جی روی نے مزید کہا کہ تمام محکمہ جات اپنے اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے مربوط حکمت عملی بنائیں۔ مواضعات میں شجرکاری کے لیے شمشان گھاٹ، رعیتو ویدیکا، تالابوں کے کنارے، کنالوں کے اطراف اور سڑکوں کے دونوں جانب مناسب مقامات منتخب کیے جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2021 میں 42,43,658 اور 2022 میں 40,88,433 پودوں کی شجرکاری کے اہداف طے کیے گئے ہیں۔ نرسریوں میں پودوں کی افزائش اور معیار کی بہتری پر بھی زور دیا گیا۔
جی روی نے کہا کہ عہدیدار آپسی تال میل سے ہریتا ہارم پروگرام کو کامیاب بنائیں اور پودوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پودوں کی کٹائی کرنے والوں پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
اجلاس میں ایڈیشنل کلکٹر برائے مجالس مقامی ڈی ارونا سری، ڈی ایف او بی وینکٹیشور راؤ، ضلع پریشد سی ای او سرینیواس، کمشنران بلدیات اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔



