مولانااحمدبخاری نے جمعہ کے خطاب میں وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش کااظہارکیا
نئی دہلی 29اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جہانگیرپوری میں رام نومی کے بہانے تشدد کیا گیا،دہلی کے شاہی امام خاموش رہے،جہانگیرپوری میں بلڈوزرچلانے کانوٹس ملا،لیکن شاہی امام کی نیندنہیں ٹوٹی،جب سپریم کورٹ کے حکم کے باوجودبلڈوزرچل رہاتھاتب بھی پینتالیس منٹ کے فاصلے پرشاہی امام کی قیام گاہ تھی لیکن وہ سوئے رہے،جب کہ لیفٹ لیڈرورنداکرات نے احتجاج کیااوربلڈوزرکے سامنے ڈٹ گئیں،گویاانھوں نے ایسی مسلم قیادت کے منہ پرطمانچہ مارا۔
ملک کے ماحول اورصورت حال میں بخاری مسلسل خاموش ہیں۔وہ صرف الیکشن کے وقت سامنے آتے ہیں۔اب شاہی امام نے وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کی خواہش کی ہے۔اندازہ نہیں ہے کہ وہ ملاقات اپنے نجی فائدہ کے لیے ہوگی یاملت کے لیے۔دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری نے حالیہ فرقہ وارانہ واقعات کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
امام بخاری نے کہاہے کہ وہ پی ایم مودی کو خط لکھ کر ملاقات کا وقت مانگیں گے اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کریں گے۔جامع مسجد امام بخاری نے جمعہ کے خطاب میں کہاہے کہ ہم اس ملک کو فرقہ وارانہ نفرت کی آگ میں جلنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔
ہم اپنے دشمنوں کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے سکتے۔امام بخاری نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ دوسرے مذاہب کے مذہبی مقامات سے جلوس نکالے گئے۔
اس دوران دیگر مذاہب کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ تلواروں، بندوقوں کی کھلے عام نمائش کی گئی۔ امام بخاری نے کہاہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں تشدد نہیں چاہتے۔ کورونا کی وجہ سے ہر کوئی پہلے ہی مالی مسائل کا شکار ہے۔امام بخاری نے کہاہے کہ میں پی ایم مودی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر فرقہ وارانہ اختلافات اور نفرتیں بڑھتی رہیں تو کیا یہ ملک کے حق میں ہے؟
انہوں نے کہاہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ وزیراعظم کا تعلق پورے ملک سے ہے کسی خاص مذہب سے نہیں۔ ہم پی ایم مودی سے ملاقات کے لیے وقت مانگیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ وقت دیں گے۔



