
جھارکھنڈ : اسمبلی میں نماز کیلئے جگہ دینے پراپوزیشن ارکان کا ہنگامہ
رانچی6ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جھارکھنڈ اسمبلی میں بی جے پی کے ارکان نے پیر کو نماز پڑھنے کے لیے کمرہ الاٹ کرنے کے معاملے پر زبردست ہنگامہ کھڑا کیا ، جس کی وجہ سے ایوان کا اجلاس متاثر ہوا۔ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان ہنومان چالیساکاپاٹھ پڑھتے ہوئے ایوان کے دروازے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ اس کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے ، جن پرہرے رام لکھاہوا تھا۔
جب کارروائی شروع ہوئی تو بی جے پی کے ارکان ’جے شری رام’ کے نعرے لگاتے ہوئے چبوترے کے قریب گئے۔ وہ نماز کے کمرے کی الاٹمنٹ سے متعلق حکم واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔صدر رابندر ناتھ مہتو نے بھنوپرتاپ ساہی سمیت بی جے پی ارکان سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں۔
انھوں نے ان سے کہا ہے کہ آپ ایک اچھے رکن ہیں۔ برائے مہربانی پریزائیڈنگ آفیسر کے ساتھ تعاون کریں۔ لیکن جب ہنگامہ جاری رہا توا سپیکر نے ایوان کی کارروائی کوتین بجے تک ملتوی کر دیا۔ بی جے پی کارکنوں نے نماز ہال سے متعلق فیصلے کے خلاف ریاست بھر میں مظاہرہ کیا اور وزیراعلیٰ ہیمنت سورین اور اسمبلی کے اسپیکر کے پتلے جلائے۔
اسپیکر نے نماز کے لیے کمرہ نمبر TW 348 الاٹ کیاہے۔ اس پر بی جے پی اسمبلی احاطے میں ہنومان مندر اوردیگرمذہبی لوگوں کے لیے عبادت گاہوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔بی جے پی لیڈر اور سابق وزیراعلی بابو لال مرانڈی نے اسپیکر کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے۔ ہفتہ کو اسپیکر کا حکم آنے کے بعد انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے مندر کو صرف جمہوریت کا مندر رہنے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ بابولال مرانڈی کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔اسپیکر رویندر ناتھ مہتو نے پورے تنازعہ پر کہاکہ نمازی جمعہ کو نماز پڑھتے ہیں، ہر کوئی نماز پڑھنے کے لیے جمع ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک مخصوص جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے لیے جگہ دی گئی ہے، میں نے ہی نہیں دی، ہماری پرانی اسمبلی میں اس کے علاوہ نماز پڑھنے کے لیے ایک خاص جگہ مختص کی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ لوگوں نے کہا کہ کم وقت میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے ہمیں بہت دور جانا پڑتا ہے۔
وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کی دوٹوک:ایسی ذہنیت ریاست کی ترقی میں رکاوٹ
جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی میں نماز کیلئے کمرہ مختص کرنے کے معاملے پر ریاستی وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قسم کی ذہنیت ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ در اصل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اسمبلی میں نماز پڑھنے کے لیے کمرہ الاٹ کرنے کے اسپیکر کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہے۔



