
فارم-6 میں تبدیلی کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں، مرکز کو ہے: جے رام رمیش
کانگریس رہنما کا الزام، فارم-6 میں مبینہ تبدیلی سے پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے لیے مشکلات بڑھیں، چیف الیکشن کمشنر سے جوابدہی کا مطالبہ
نئی دہلی، 26 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم-6 میں مبینہ تبدیلی پر الیکشن کمیشن آف انڈیا سے وضاحت طلب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فارم میں اضافی معلومات شامل کیے جانے سے پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے لیے ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوجوان ووٹرز کے لیے خصوصی نامزدگی کیمپ لگانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی وسیع تشہیر کی ہدایت دی ہے، لیکن دوسری جانب فارم-6 کے آن لائن عمل میں ایسی اضافی معلومات شامل کی گئی ہیں جو نئے ووٹرز کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
کانگریس رہنما کے مطابق فارم-6 میں ایک نیا لازمی حصہ شامل کیا گیا ہے، جس میں درخواست گزار سے یہ معلومات طلب کی جاتی ہیں کہ آیا اس کا نام یا اس کے والدین، دادا یا دادی کا نام سابقہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران انتخابی ریکارڈ میں موجود تھا یا نہیں۔ جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اس شرط سے خاص طور پر پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے لیے اضافی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔
جے رام رمیش نے فارم-6 میں کی گئی تبدیلی پر تین بنیادی اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق پہلا اعتراض یہ ہے کہ جولائی 2026 کے آغاز میں آن لائن فارم میں تبدیلی کی گئی، لیکن اس حوالے سے باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک قانونی فارم میں اس طرح کی تبدیلی مناسب طریقہ کار اختیار کیے بغیر کی گئی۔
ان کا دوسرا اعتراض الیکشن کمیشن کے اختیار سے متعلق ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق Representation of the People Act، 1950 کے تحت فارم میں قانونی تبدیلی کا اختیار مرکزی حکومت کے پاس ہے اور الیکشن کمیشن کو اپنی طرف سے فارم-6 میں ایسی ترمیم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
تیسرے نکتے میں کانگریس رہنما نے Registration of Electors Rules، 1960 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فارم-6 کو کنٹرول کرنے والے قواعد میں باضابطہ ترمیم کیے بغیر فارم میں تبدیلی کی گئی۔ ان کے مطابق قانونی طور پر مقررہ فارم میں تبدیلی کے لیے طے شدہ آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جانا ضروری ہے۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کے دونوں الیکشن کمشنرز نے بھی اس تبدیلی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے شہری بغیر غیر ضروری مشکلات کے اپنا نام انتخابی فہرست میں درج کرا سکیں۔
کانگریس رہنما نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر آئینی روایات اور قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے بھی معاملے کا ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی۔
جے رام رمیش نے اپنے بیان میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس استعفیٰ دے کر اپنی غلطی تسلیم کرنے کا موقع موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ووٹرز کے لیے انتخابی فہرست میں نام درج کرانے کا عمل آسان ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جانی چاہئیں۔
فارم-6 میں تبدیلی کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئے ووٹرز کے اندراج اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کو لے کر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات جاری ہیں۔ جے رام رمیش کے الزامات کے بعد فارم میں کی گئی تبدیلی، الیکشن کمیشن کے اختیارات اور اس کے لیے اختیار کیے گئے قانونی طریقہ کار پر بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔



