بین الاقوامی خبریں

جمال خشوگی قتل کیس: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں سعودی ولی عہد کا نام

۔سعودی

 واشنگٹن:(ایجنسیاں) امریکہ کے خفیہ اداروں کے حکام کی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ایک نئی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں امریکہ میں مقیم سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی منظوری دی تھی۔

سعودی

 واشنگٹن ڈی سی میں جاری کی گئی رپورٹ

میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے جمال خشوگی کو، جو ان کی آمرانہ طرز حکمرانی کے ناقد تھے، گرفتار کرنے یا ہلاک کرنے کے لیے ایک آپریشن کی منظوری دی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ رپورٹ امریکی انٹیلی جنس حکام کی ان معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے، جو وہ سعودی حکومت میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اثر و رسوخ یا ان کے اہم مشاورت کار سعد القہتانی کے کردار یا ان کے محافظوں پر مشتمل عملے کے حوالے سے موجود تھیں۔

انٹیلی جنس حکام نے اس رپورٹ کی تیاری

  ماضی میں سعودی ولی عہد کے اپنے بیرون ملک ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے اختیار کیے گئے پر تشدد ہتھکنڈوں کی حمایت کو بھی مدِ نظر رکھا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد خشوگی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث 76 سعودی شہریوں پر ویزے کی پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اپنی سرحدوں کے اندر رہنے والے تمام افراد کی حفاظت کے لیے، اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ بیرونی حکومت اس کے ناقدین کو ہدف بنانے کی نیت سے کوئی امریکی سر زمین میں داخل ہو۔

یہ ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز صدر بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کے شاہ سلمان کو کی گئی اس ٹیلی فون کال کے ایک دن بعد جاری کی گئی ہے جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے بتایا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات مضبوط کرنے کی بات کی۔ جب کہ خشوگی کے قتل کے حوالے سے نئی رپورٹ کے اجرا کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مندرجات بائیڈن انتظامیہ پر اس دباؤ میں اضافہ کر دیں گے۔کہ وہ سعودی حکومت کو اس قتل کے لیے جواب دہ بنائے۔ جس پر امریکہ اور دنیا بھر میں زبردست غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ سعودی ولی عہد کے نام پر مشتمل اس انٹیلی جنس رپورٹ کو عام کرنا،

مبصرین کے مطابق، اس لیے بھی اہم ہے۔ کہ اس سے نئی امریکی انتظامیہ کے ایک ایسے ملک کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ جس پر صدر بائیڈن تنقید کر چکے ہیں۔ لیکن وائٹ ہاؤس سعودی عرب کو کئی حوالوں سے اپنا اسٹریٹیجک پارٹنر بھی سمجھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button