جموں و کشمیر : وقف بورڈ کے ذریعہ ائمہ و مؤذنین کی تقرری کے نئے عجلت پسندانہ فیصلے پر تنازع
جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے مزارات اور مساجد کے کنٹرول کو لے کر بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک بڑا سیاسی تنازعہ
سری نگر ،30اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے مزارات اور مساجد کے کنٹرول کو لے کر بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک بڑا سیاسی تنازعہ پیدا ہو رہا ہے۔ بی جے پی زیرقیادت جموں کشمیر وقف بورڈ نے ایک متنازعہ حکم کے ذریعے پرانے ائمہ کرام کوبدلنے اور ان کی جگہ نئے اماموں، خطیبوں اور مؤذنوں کے انتخاب اور تقرری کرنے کی کوشش کی ہے۔ اہلیت کے معیار کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس کے بعد تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر درخشاں اندرابی کی سربراہی میں جموں و کشمیر وقف بورڈ نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں نئی شرائط کے تحت امام، خطیب اور مؤذن کے عہدوں کے لیے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔نئی تقرریاں 6 ماہ کی مدت کے لیے عارضی بنیادوں پر کی جانی ہیں جن میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے لیکن یہ معاملہ تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔
اپوزیشن اس اقدام کو ایک مذموم منصوبہ دیکھ رہی ہے۔اس معاملے میں نیشنل کانفرنس کے ترجمان افرا جان نے بی جے پی زیرقیادت وقف بورڈ کے حکم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی کوشش ہے۔افرا نے کہاکہ اس طرح کے احکامات کو منتخب حکومتوں پر چھوڑنا چاہیے نہ کہ ایسے لیڈروں پر جو منتخب نہیں ہو سکے۔ آپ کون ہوتے ہیں، ایسا فیصلہ لینے والے یا اسے مسجدوں میں بھی بی جے پی لیڈروںکے دخول کی اجازت ملنی چاہیے؟ خیال رہے کہ خبر مطابق وقف بورڈ نے اماموں اور خطیبوں کی تقرری کے لیے اہلیت کا معیار طے کیا ہے۔
امام، خطیب اور مؤذن کے لیے امیدواروں کے پاس کم از کم دسویں جماعت کی تعلیم اور سنی حنفی انسٹی ٹیوٹ سے مولوی قاضی کورس کی سند ہونی چاہیے۔جموں و کشمیر وقف بورڈ کے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ تحصیلدار اشتیاق محی الدین کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کو اپنے زیر کنٹرول زیادہ تر درگاہوں اور مساجد میں اہل اماموں، خطیبوں اور مؤذنوں کی کمی کا سامنا ہے۔ موجودہ امام اور خطیب اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے کے لیے کئی ا ئمہ ضعیف العمری کو پہنچ گئے ہیں۔ عوام کی جانب سے موصول ہونے والی نمائندگیاں بھی اہل اماموں، خطیبوں اور مؤذن کی تقرری کے مطالبے کو اجاگر کرتی ہیں۔
وقف بورڈ یکطرفہ فیصلوں سے باز رہے-ساگر
پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے سبھا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا، "ان بنیاد پرست فیصلوں کو نافذ کرنے سے پہلے جن کا براہ راست اثر ہماری مساجد کے کام کرنے کے طریقہ کار پر ہوتا ہے، اس میں شامل پیچیدگیوں کو سمجھنا سمجھداری کی بات ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ علمائے دین کا نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی امور میں بھی مہارت ہو۔ ایک سادہ فیصلے سے تجربہ کار مولویوں، مبلغین اور مؤذن کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔



