سلام بن عثمان، کرلا ممبئ 70
کرکٹ کے بدلتے دور میں کئی کھلاڑیوں نے ہندوستان کی کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنائی۔ اور ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے اپنے ملک ہندوستان کو بہترین فتح بھی دلائی ساتھ ہی خود بھی مشہور ہوئے۔ جی ہاں کرکٹ کی تاریخ میں افغانستان کا ایک ایسا نوجوان بھی ہندوستان کی کرکٹ ٹیم میں آیا اور اپنے ہنر سے ہندوستان کی کرکٹ ٹیم میں تاریخ رقم کی۔ وہ تھے سلیم درانی۔
سلیم دررانی جب ٹیسٹ میچ کے وقت میدان پر اترتے تو اسٹیڈیم کے ہر کونے سے تالیوں کی گونج سنائی دیتی تھی۔ سلیم عزیز دررانی افغانستان کے شہر کابل میں پیدا ہوئے۔ برسوں بعد ایک ایسے کھلاڑی کا ٹیم انڈیا میں انتخاب ہوا جہاں پر کرکٹ کو فروغ حاصل نہیں ہے۔
ہاں مگر ہر ایک کی زبان پر جملہ ضرور آتا ہے۔ "اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ کشمیر میں ہے”۔ جی ہاں جموں کشمیر کا ایک ایسا نوجوان کرکٹ میں اپنی شناخت بنائی جو بہت ہی ناممکن بات تھے۔ جموں کشمیر کی ٹیم رنجی ٹرافی میں کبھی بھی کوالیفائی نہیں ہوئی۔ مگر پرویز رسول کے کپتانی میں ٹیم نے رنجی ٹرافی میچ میں پہلی مرتبہ کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔
پرویز غلام رسول کو ویسے تو بچپن ہی سے کرکٹ میں دلچسپی تھی۔ جس کی خاص وجہ والد غلام رسول بھی ریاستی سطح پر کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور پرویز کے بھائی آصف رسول بھی۔ پرویز کو بھی کرکٹ کا شوق تھا اور ساتھ ہی ٹیم انڈیا میں شامل ہونا ایک خواب تھا۔ اللہ نے پرویز کے اس خواب کو پورا کیا۔
پرویز رسول 13 فروری 1989 میں جموں وکشمیر کے ضلع اننت ناگ، بجہاڑا میں پیدا ہوئے۔ بچپن کے شوق نے پرویز رسول کو جموں کشمیر کی ٹیم میں جگہ عطا کی۔ کرکٹ میں ان کے کوچ عبدالقیوم تھے۔
پرویز رسول دائیں ہاتھ کے بہترین بلے باز اور دائیں ہاتھ کے ہی آف بریک گیند باز کے طور پر ریاستی سطح پر اپنی شناخت بنائی اور جموں کشمیر ٹیم کے کپتان بنے اور ساتھ ہی ٹیم انڈیا اے میں نمائندگی بھی کی۔ سال 2000 میں پرویز رسول کو جموں کشمیر کی کپتانی دی گئی اس وقت جموں وکشمیر ٹیم پہلی مرتبہ کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔
سال 13-2012 کے رنجی سیزن میں 594 رنز بنائے۔ جس میں دو سنچریاں بھی شامل ہیں۔ گیند بازی میں 33 وکٹوں کو نشانہ بنایا۔ پرویز رسول کی اس بہترین اور متاثر کن کارکردگی کی وجہ سے انھیں 6 جنوری 2013 میں انگلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ کے لیے ان کا انتخاب ہوا۔ پرویز رسول وادی کشمیر کے پہلے کرکٹ کھلاڑی بنے۔ اور ٹیم انڈیا کے لیے منتخب کیے گیے۔
2013 کے سیزن میں پرویز رسول نے گیند بازی میں تہلکہ مچا دیا۔ پرویز رسول نے سات وکٹیں حاصل کیں جس کی وجہ سے مہمان آسٹریلیا ٹیم کو محض 241 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ بلے بازی میں 36 ناٹ آؤٹ رنز کی بہترین اننگ کھیلی۔ ان کی سات وکٹوں میں آسٹریلیا کے بہترین بلے بازوں کی وکٹیں شامل تھیں۔
اسی کے ساتھ سال 2013 میں ہی انھیں آئی پی ایل سیزن میں جگہ ملی اور پونے واریئرز کے ساتھ سیزن کا معاہدہ کیا۔ پرویز رسول نے اپنا پہلا آئی پی ایل میچ 9 مئی 2013 میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف کھیلا۔ اس میچ میں انھوں نے مشہور کھلاڑی جیک کیلیس کی وکٹ حاصل کی۔
2013 کے رنجی سیزن میں دو سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کے ساتھ 663 رنز بنائے اور 9 میچوں میں دو مرتبہ پانچ وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اور پورے سیزن میں 27 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ سال 2014 کے آئی پی ایل سیزن میں سن رائزرز حیدرآباد کی طرف سے انھیں تین میچ کھیلنے کا موقع ملا۔
اپنے پہلے ہی میچ میں یوراج سنگھ کی وکٹ لی اور گیل، کوہلی اور ڈی ویلیئرز کی وکٹیں تو حاصل نہیں کر سکے مگر رنز بنانے بھی نہیں دیا۔ پرویز رسول کو بہترین آل راؤنڈر کے لیے انھیں لالہ امرناتھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 17-2016 کے رنجی سیزن میں سات نصف سنچریاں بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اور 38 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
پرویز رسول اس سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پانچویں کھلاڑی کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ سال18-2017 میں رنجی ٹرافی جموں کشمیر کے لیے کیرالا کے خلاف بولنگ کرتے ہوئے دسویں مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اور سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی بنے۔
سال 19-218 میں دلیپ ٹرافی کے لیے انڈیا ریڈ کے اسکواڈ میں شامل کیے گئے۔دو میچوں میں گیارہ وکٹیں حاصل کیں اور سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے ولے گیند باز بنے۔
3 اکتوبر 2018 میں پرویز رسول 100 لسٹ اے میچ کھیلنے والے جموں کشمیر کے پہلے کرکیٹر بنے۔ اپنے 100 میچوں کے طویل سفر میں 115 وکٹیں حاصل کیں 2366 رنز بنائے۔19 -2018 کے رنجی سیزن میں جموں کشمیر کے لیے 684 رنز کے ساتھ 35 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد بہترین آل راؤنڈر کے طور کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
2013 میں پرویز رسول کو ٹیم انڈیا میں زمباوے دورے کے لیے قومی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ پورے سیزن میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ اس کے بعد سال 2014 میں بنگلہ دیش کے خلاف میر پور میں کھیلنے کا موقع ملا۔ اس یک روزہ میچ میں دس اوورز میں 60 رنز دیے اور دو وکٹ حاصل کیے۔
جنوری 2017 میں انگلینڈ ٹیم جب انڈیا کے دورے پر آئی اس وقت ٹی20 سیریز کے لیے انھیں ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ اپنے پہلے ٹی 20 میچ میں چار اوورز میں ایک رن کے عوض ایک وکٹ حاصل کیا۔ اور بلے بازی میں پانچ رنز بھی بنائے۔
پرویز رسول نے اپنے یک روزہ میچ کی ایک اننگ میں دو وکٹ حاصل کیے۔ ایک ٹی 20 میچ میں پانچ رنز بنائے اور اور 32 رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کیے۔ 82 فرسٹ کلاس میچوں میں 4807 رنز بنائے جس میں بارہ سنچریاں اور بیس نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین کارکردگی رہی 182 رنز، گیند بازی میں 266 وکٹیں حاصل کیں۔
17 مرتبہ پانچ وکٹیں اور تین مرتبہ دس وکٹوں کا ریکارڈ قائم کیا۔ بہترین گیند بازی رہی 85 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں اور 44 بہترین کیچیز۔ 123 لسٹ اے محدود اوور میچوں میں 3086 رنز بنائے جس میں ایک سنچری اور 24 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ بہترین کارکردگی رہی 118 رنز ناٹ آؤٹ۔ گیند بازی میں 137 وکٹیں ایک مرتبہ پانچ وکٹیں اور بہترین کارکردگی رہی 62 رنز کے عوض پانچ وکٹیں اور 30 بہترین کیچیز۔
اگست 2017 میں شوپیاں ضلع کے سری نگر کے گاؤں رانی پورہ میں رہنے والی لڑکی سے شادی کی۔



