
جموں واقع ہندوستانی ایئر فورس اسٹیشن پر دو بم دھماکے،ڈرون کاہدف تھے اے ٹی سی اور ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر، این آئی اے کی حراست میں دو مشتبہ
ڈرون کا آئی ای ڈی بم کے طور پر استعمال ، 6 کیلو کا ایک اور بم برآمد : دلباغ سنگھ
سری نگر ، 27جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) جموں و#کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے #جموں کے ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) اسٹیشن پر ہو ئے بم دھماکے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون کو ہی آئی ای ڈی کے طور پر استعمال کیاگیا ، اس کے ٹکڑے موقع سے برآمد کئے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ دہشت گردوں نے بھیڑ میں دھماکہ کرنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا ، جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
ڈی جی پی کے مطابق جموں پولیس نے 6 سے 5کیلو وزنی آئی ای ڈی بم برآمد کیا ہے۔ اسے لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گرد سے برآمد کیا گیاہے،کسی بھیڑ والے علاقہ میں دھماکہ کی سازش ناکام کردی گئی ۔انہوں نے کہا کہ حراست میں لئے گئے ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ دیگر ایجنسیوں کے ساتھ ریاستی پولیس بھی تفتیش میں شامل ہے۔ایف آئی آر #درج کی جاچکی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
ایک ٹی وی نیوز چینل نے ڈی جی پی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے کی سازش کو سرحدپار(پاکستان) سے تیا ر کی گئی ، اسے انجام دینے والے مجرمین سرحد کے اندر ]کشمیر [میں ہی موجود ہیں۔# پولیس ، آئی اے ایف اور دیگر ایجنسیاں اس معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہیں، اطلاع کے مطابق اب تک دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔جموں فضائیہ اسٹیشن پر دھماکے میں یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔
خیال رہے کہ اتوار کے روز صبح #جموں کے ہائی #سکیورٹی ہوائی اڈے کے ایئر فورس ٹیکنیکل ایریا میں بارود سے بھرا دو ڈرون گر کر تباہ ہوا، پھر دھماکہ ہوا۔ حکام کے مطابق پہلا دھماکہ صبح 1.40 بجے کے قریب ہوا ،جس کے سبب ہوائی اڈے کے تکنیکی ایریا میں واقع ایک عمارت کی چھت گر گئی، ہندوستانی فضائیہ اس جگہ کی نگرانی کرتی ہے ۔جبکہ دوسرا دھماکہ چھ منٹ بعدہوا۔اس دھماکہ میں فضائیہ کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
جموں ایئر پورٹ اور بین الاقوامی سرحد کے درمیان فضائی فاصلہ 14 کلو میٹر ہے۔ تفتیش میں شامل عہدیدار دونوں ڈرون کے ہوائی راستے کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع #راج ناتھ سنگھ کے دفتر نے بتایا کہ انھوں نے دھماکوں سے متعلق ایئر فورس کے ڈپٹی چیف ایئر مارشل ایچ ایس اروڑا سے بات کی ہے۔
ہندوستانی فضائیہ نے ٹویٹ کیا کہ جموں ایئر فورس اسٹیشن کے تکنیکی علاقہ میں اتوار کے روز علی الصبح دو کم شدت والے دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔ ٹوئٹ میں کہاگیا ہے کہ ایک #دھماکے میں ایک عمارت کی چھت کو معمولی نقصان پہنچا ، جبکہ دوسرا دھماکہ ایک کھلے علاقہ میں ہوا، کسی سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ،واقعہ کی تحقیقات سول ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کی جارہی ہیں۔
جموں کے ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر پروت رنجن بیوریا کے مطابق دھماکے کی وجہ سے فلائٹ آپریشن متأثر نہیں ہوا ہے،بلکہ #پروازیں اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق چل رہی ہیں۔
جموں ایئرفورس اسٹیشن حملے میں بڑا خلاصہ
این آئی اے نے جموں ایئر فورس اسٹیشن دھماکے کیس میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان دونوں کو جموں کے علاقے بیلیچارنا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں پر دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کا الزام ہے اور تفتیش جاری ہے۔ ماناجارہاہے کہ ان سے بہت ساری اہم معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔اس معاملے میں ایک بڑی معلومات یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ ان کے نشانے پر دو انتہائی اہم اہداف تھے۔ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق اس ڈرون حملے کا نشانہ ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) اورایم آئی17 ہیلی کاپٹر تھے لیکن حملے میں ڈرون اپنے اصل نشانہ سے چوک گیا۔
معلومات کے مطابق ایک ڈرون میں پانچ کلوگرام ٹی این ٹی دھماکہ خیز مواد تھا۔ دوسرے ڈرون میں کم وزن کا دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ بتادیں کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے ہندوستان کے خلاف اسی طرح کے ڈرون کا استعمال کرتا رہا ہے۔
ادھر اس حملے میں زخمی فوجیوں نے ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھدوریا سے فون پر بات کی۔ ایئر چیف مارشل اس وقت بنگلہ دیش میں ہیں۔ اس ڈرون دھماکے میں دو جوان معمولی زخمی ہوئے تھے۔ ہندوستانی فضائیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں فوجی زیر نگرانی ہیں اور خیریت سے ہیں۔جس جگہ دھماکا ہوا وہ جگہ ائیر فورس اسٹیشن کا فنی علاقہ تھا۔ یہ وہ حصہ ہے جہاں نہ صرف ہوائی ٹریفک کنٹرول ہے، بلکہ ایم آئی ہیلی کاپٹر اور اس طرح کے دیگر سامان موجود ہیں جہاں سے ہوائی نگرانی کی جاتی ہے۔



